شمائل النبی ؐ — Page 146
146 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ إِسْتَأْ ذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّی طلب کی۔میں آپ کے پاس تھی آپ ﷺ نے فرمایا یہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَ بِئْسَ ابْنُ (اپنے قبلے کائر الشخص ہے پھر آپ ﷺ نے اسے اجازت الْعَشِيْرَةِ أَوْاَحُ الْعَشِيرَةِ ثُمَّ أَذِنَ لَهُ فَاكَانَ لَهُ مرحمت فرمائی اور اس کے ساتھ نہایت نرمی سے گفتگو فرمائی۔الْقَوْلَ فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ قُلْتَ مَا جب وہ واپس چلا گیا تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ قُلْتَ ثُمَّ اَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ مِنْ نے تو کچھ فرمایا تھا پھر آپ نے اس سے اس قدر نرمی سے شَرِّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ إِبْقَاءَ بات کی ہے؟ آپ نے فرمایا اے عائشہ ! یقینا لوگوں میں سے بدترین وہ شخص ہے جسے دوسرے لوگ اس کی بدگوئی سے فحشه۔بچنے کے لئے اُس سے قطع تعلق کریں۔:336 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا جُمَيعُ :336 حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ابْنُ عُمَرَ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعِجُلِيُّ حَدَّثَنِي میں نے اپنے والد سے رسول اللہ لے کے اپنے ہم نشینوں رَجُلٌ مِنْ بَنِى تَمِيمٍ مِنْ وَلَدِ أَبِي هَالَةَ زَوْجِ سے طرز عمل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا خَدِيجَةَ يُكْنى اَبَا عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ لَابِي هَالَةَ رسول الله ﷺ ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آتے۔آپ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ خوش خلق اور نرم مزاج تھے۔نہ تند خو اور نہ ہی سخت دل قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِي سَأَلْتُ اَبِي عَنْ سِيرَةِ تھے۔نہ شور کرنے والے تھے نہ ہی بد گوئی کرنے والے نہ ہی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِی جُلَسَائِهِ عیب لگانے والے تھے اور نہ ہی بخیل وحریص تھے۔جس چیز فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی آپ کو رغبت ہوتی اس سے بھی تغافل فرماتے مگر دَائِمَ الْبِشْرِ سَهْلَ الْخُلُقِ لَيْنَ الْجَانِبِ لَيْسَ ( دوسروں کو ) اس سے مایوس نہ کرتے اور نہ ہی اس کو اس بِفَطٍ وَلَا غَلِيطٍ وَلَا صَحَابِ وَلَا فَحَاشِ وَلَا سے محروم رکھتے۔تین باتوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھتے۔عَيَّابٍ وَلَا مُشَاحٍ يَتَغَافَلُ عَمَّا يَشْتَهِيَ وَلَا لڑائی جھگڑے سے اور تکبر سے اور جن باتوں سے آپ کا يُؤْيِسُ مِنْهُ وَلَا يُخَيِّبُ فِيهِ قَدْ تَرَكَ نَفْسَهُ مِنْ تعلق نہ ہوتا اور تین باتوں سے لوگوں کو بچا رکھا تھا یعنی آپ ثَلاثِ المِرَاءِ وَالإِكْبَارِ وَمَا لَا يَعْنِيهِ وَتَرَک کسی کی مذمت نہ فرماتے نہ ہی اس کے عیب نکالتے نہ اس کی النَّاسَ مِنْ ثَلاثٍ كَانَ لَا يَدُمُ أَحَدًا وَلَا يَعِيبُه پوشیدہ کمزوریوں کو تلاش کرتے آپ ایسی گفتگو فرماتے جس وَلَا يَطْلُبُ عَوْرَتَهُ وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا فِيْمَا رَجَا میں ثواب کی امید ہو۔جب آپ گفتگو فرماتے تو حاضرین ور