شمائل النبی ؐ

Page 144 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 144

144 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ۔فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ اَنَا خَيْرٌ ام پھر میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا میں بہتر ہوں یا عثمان ؟ آپ عُمَرُ؟ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَنَا خَيْرٌ نے فرمایا: عثمان۔جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اَمْ عُثْمَانُ؟ قَالَ عُثْمَانُ فَلَمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ تو آپ نے بیچ بیچ فرما دیا۔اس تو آپ نے سچ سچ فرما دیا۔اس پر میں نے چاہا کہ کاش میں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَدَقَنِي فَلَوَدِدْتُ أَنِّي نے یہ نہ پوچھا ہوتا۔لَمْ أَكُنْ سَأَلْتُهُ۔330 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ 330 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نے سُلَيْمَانَ الصُّبَعِيُّ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی توفیق پائی آپ نے مَالِكِ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللہ مجھے کبھی اف تک نہیں کہا۔اور نہ ہی کسی کام کے کرنے پر فرمایا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي اُتِ قَطُّ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اور نہ ہی کسی کام کے چھوڑنے پر فرمایا أَقٍ وَمَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَهُ وَلَا لِشَيْءٍ کہ تو نے اسے کیوں چھوڑا؟ اور رسول اللہ علے لوگوں میں تَرَكْتُهُ لِمَ تَرَكْتَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ سب سے زیادہ حسین اخلاق کے مالک تھے اور میں نے کوئی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا ریشم میلا کپڑا یا کوئی خالص ریشم یا کوئی بھی چیز ایسی نہیں چھوٹی وَلَا مَسَسْتُ خَرًّا وَلَا حَرِيرًا وَلَا شَيْئًا كَانَ اليَنَ جو رسول الله ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو۔اور نہ ہی میں مِنْ كَتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کبھی کوئی مُشک یا عطر سونگھا جو رسول اللہ ہے کے پسینے کی وَلَا شَمَمُتُ مِسْكًا قَط وَلَا عِطَرًا كَانَ أَطْيَبَ خوشبو سے زیادہ خوشبودار ہو۔مِنْ عَرَقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔331 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ 331 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک عَبْدَةَ هُوَ الصَّبِيُّ وَالْمَعْنى وَاحِدٌ قَالَا حَدَّثَنَا مرتبہ رسول الله ﷺ کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جس کی چادر حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَلْمِ الْعَلَوِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ پر زرد رنگ کا نشان تھا۔(حضرت انس) کہتے ہیں رسول اللہ علے مَالِكِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا یہ طریق تھا کہ آپ کسی شخص کے سامنے کوئی ایسی بات نہ یہ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَجُلٌ بِهِ اثَرُ صُفْرَةٍ فرماتے جو اس کو نا پسند ہوتی۔پس جب وہ اٹھ کر چلا گیا تو قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ نے صحابہ سے فرمایا: تم اس کو کہد یتے کہ وہ یہ زردی لَا يَكَادُ يُوَاجِهُ أَحَدًا بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ فَلَمَّا قَامَ چھوڑ دے۔