شمائل النبی ؐ — Page 143
شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 143 بَابُ مَا جَاءَ فِى خُلُقٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا بیان :328 حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّوَرِيُّ :328 خارجہ بن زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ چند لوگ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِى حَدَّثَنَا لَیتُ حضرت زید بن ثابت کے پاس آئے اور ان سے کہا ہمیں ابْنُ سَعْدِ حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ الْوَلِيدُ بن ابي رسول اللہ ﷺ کی احادیث سناؤ۔انہوں نے کہا میں تمہیں کیا الْوَلِيدِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ خَارِجَةَ عَنْ خَارِجَةَ بنِ کیا بتاؤں۔میں حضور ﷺ کا ہمسایہ تھا جب آپ پر وحی زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ دَخَلَ نَفَرٌ عَلى زَيْدِ بْنِ ثَابِتِ نازل ہوتی تو مجھے بلا بھیجتے اور میں وہ آپ کے لئے لکھ دیتا۔فَقَالُوْا لَهُ حَدِقْنَا أَحَادِيثَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله پھر جب ہم دنیوی امور کے متعلق گفتگو کرتے تو آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَاذَا أحَدِتْكُمُ كُنتُ جَارَهُ ہمارے ساتھ اس کی باتیں کرتے۔جب ہم آخرت کا ذکر فَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بَعَثَ إِلَيَّ فَكَتَبْتُهُ لَهُ کرتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ اس کا ذکر فرماتے اور فَكُنَّا إِذَا ذَكَرُنَا الدُّنْيَا ذَكَرَهَا مَعَنَا وَإِذَا ذَكَرُنَا جب ہم کھانے پینے کا ذکر کرتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ الْآخِرَةَ ذَكَرَهَا مَعَنَا وَإِذَا ذَكَرْنَا الطَّعَامَ ذَكَرَهُ اس کا ذکر فرماتے۔یہ سب کچھ جو میں تم سے بیان کر رہا ہوں مَعَنَا فَكُلُّ هَذَا أَحَدِتْكُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہ یہ نبی کریم ﷺ کی باتیں ہیں۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔329: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَوْسَى حَدَّثَنَا يُونُسُ :329 حضرت عمرو بن عاص بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کے ابْنُ بُكَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ زِيَادِ بْنِ قوم کے بہت برے شخص کی طرف بھی توجہ فرماتے اور اُس أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ كَعْبِ الْفُرَضِي عَنْ سے گفتگو کرتے اور اس طرح اُن (لوگوں) کی تالیف قلب عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی فرماتے اور میری طرف بھی رسول اللہ ﷺہ متوجہ ہوتے اور اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ وَحَدِيْثِهِ عَلَی اپنی باتیں کرتے۔یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ میں قوم کا اَشَرِ الْقَوْمِ يَتَأَ لَفُهُمُ بِذلِكَ فَكَانَ يُقْبِلُ بہترین فرد ہوں چنانچہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا میں بِوَجْهِهِ وَحَدِيثِهِ عَلَيَّ حَتَّى ظَنَنتُ أَنَّى خَيْرُ بہتر ہوں یا ابو بکر ؟ آپ نے فرمایا ابو بکر۔پھر میں نے کہا الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَنَا خَيْرٌ أَوْ أَبُو بَكْرٍ؟ یا رسول اللہ! کیا میں افضل ہوں یا عمر؟ آپ نے فرمایا: عمر