شمائل النبی ؐ — Page 140
شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 140 پیشانی ،سخاوت اور حسن خلق سب کے لئے تھی آپ اُن کے لئے باپ ہو گئے تھے۔حقوق کے لحاظ سے آپ کے نزدیک سب برابر تھے۔آپ کی مجلس علم اور حیاء اور صبر اور امانت کی مجلس ہوتی۔نہ اُس میں آوازیں بلند ہوتیں نہ قابل احترام چیزوں کی بے حرمتی ہوتی نہ کسی کی کمزوریوں کو بیان کیا جاتا۔سب آپس میں برابر ہوتے اور تقوی کے سبب وہ ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے۔ایک دوسرے سے انکساری سے پیش آتے۔بڑے کی عزت کرتے اور چھوٹے پر رحم کرتے اور ضرورت مند کو تر جیح دیتے اور اجنبی کا خیال رکھتے۔322: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيع :322 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے انہوں نے حَدَّثَنَا بِشُرُ بْنُ الْمُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مجھے بکری کا ایک پایہ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی بھی تحفہ دیا جائے تو میں قبول کرلوں گا اور اگر مجھے اس کی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ اُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ دعوت دی جائے تو میں ضرور جاؤں گا۔وَلَوْ دُعِيْتُ عَلَيْهِ لَا جَبْتُ 323 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ 323 حضرت جابر سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنكَدِرِ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔نہ تو آپ خچر عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ نِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پر سوار تھے نہ ترکی گھوڑے پر ( بلکہ پا پیادہ تھے )۔وَسَلَّمَ لَيْسَ بِرَاكِبٍ بَغْلٍ وَلَا بِرْذَوْنٍ۔:324 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمنِ :324 حضرت یوسف بن عبد اللہ بن سلام کہتے ہیں کہ میرا عبداللہ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْهَيْثَمِ نام رسول اللہ ﷺ نے یوسف رکھا اور مجھے اپنی گود میں بٹھایا