شمائل النبی ؐ

Page 138 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 138

عَلَى 138 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم فَيَتَشَاغَلُ بِهِمْ وَيَشْغَلُهُمْ فِيْمَا يُصْلِحُهُمْ وَالأُمَّةَ میں امت کے حصہ کی تقسیم کا طریق کار یہ تھا کہ ملاقات کے مِنْ مَسْئَلَتِهِمْ عَنْهُ وَإِخْبَارِهِمْ بِالَّذِي يَنْبَغِي لَهُمُ لئے اجازت دینے میں امت کے اہل فضل لوگوں کو ترجیح وَيَقُولُ لِيُبَلَّعَ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ وَابْلِعُونِي دیتے اور دین میں فضیلت کے لحاظ سے ان کی تقسیم ہوتی حَاجَةَ مَنْ لَا يَسْتَطِيعُ إِبْلَاغَهَا فَإِنَّهُ مَنْ اَبْلَغَ تھی۔اُن میں سے بعض کو ایک حاجت ہوتی بعض کو دو اور سُلْطَانًا حَاجَةَ مَنْ لَا يَسْتَطِيعُ إِبْلَاغَهَا ثَبَّتَ الله بعض کوئی حاجتیں ہوتیں۔آپ اُن کی حاجت روائی میں اُن قَدَمَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُذْكَرُ عِنْدَهُ إِلَّا ذَلِكَ کے ساتھ مصروف رہتے اور ان کے سوالات پر انہیں ایسے وَلَا يَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ غَيْرَهُ يَدْخُلُونَ رُوَّادًا وَلَا کاموں میں مصروف کرتے جو ان کی اور امت کی اصلاح يَفْتَرِقُونَ إِلَّا عَنْ ذَوَاقٍ وَيَخْرُجُونَ اَذِلَّةٌ يَعْنِي کریں اور ایسی باتوں سے آگاہ کرتے جو اُن کے لئے مفید الْخَيْرِ قَالَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ مَخْرَجِهِ كَيْفَ ہوتیں۔اور فرماتے جو تم میں سے حاضر ہیں وہ غیر حاضروں يَصْنَعُ فِيْهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ تک یہ باتیں پہنچا ئیں اور مجھ تک اُس شخص کی حاجت پہنچاؤ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْزِنَ لِسَانَهُ إِلَّا فِيمَا يَعْنِيهِ جو اپنی حاجت پہنچا نہیں سکتا کیونکہ جو کسی ایسے شخص کی حاجت وَيُؤلَّفَهُمْ وَلَا يُنَفِّرُهُمْ وَيُكْرِمُ كَرِيمَ كُلِّ قَوْمٍ حاکم تک پہنچائے جسے وہ خود پہنچانے کی استطاعت نہیں رکھتا وَيُوَلِيْهِ عَلَيْهِمْ وَيُحَدِّرُ النَّاسَ وَيَحْتَرِسُ مِنْهُمُ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے ثبات قدم بخشے گا۔آپ کے مِنْ غَيْرِ أَنْ يُطْوِيَ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمُ بِشَرَهُ پاس ایسی ہی باتوں کا تذکرہ ہوتا۔اور اُن کے سوا کسی سے وَلَا خُلُقَهُ وَيَتَفَقَّدُ أَصْحَابَهُ وَيَسْئَلُ النَّاسَ عَمَّا کوئی (بات) قبول نہ فرماتے۔لوگ آپ کے پاس طالب فِي النَّاسِ وَيُحَسِنُ الْحَسَنَ وَيُقَوَيْهِ وَيُقَبِّحُ بن کر آتے اور بغیر کچھ حاصل کئے واپس نہ جاتے اور خیر کی الْقَبِيحَ وَيُوَهِيْهِ مُعْتَدِلُ الْاَمْرِ غَيْرُ مُخْتَلِفِ وَلا طرف ہدایت کرنے والے بن کر نکلتے۔وہ (حضرت امام يَغْفُلُ مَخَافَةَ أَنْ يَغْفُلُوا وَيَمَلُّولِكُلِّ حَالٍ عِنْدَهُ (حسین) کہتے ہیں پھر میں نے (اپنے والد سے ) آنحضور علی اے عَتَادٌ لَا يُقَصِّرُ عَنِ الْحَقِّ وَلَا يُجَاوِزُهُ الَّذِینَ کے گھر سے باہر نکلنے کے بارے میں پوچھا کہ اس دوران کیا يَلُوْنَهُ مِنَ النَّاسِ خِيَارُهُمْ۔أَفْضَلُهُمْ عِنْدَهُ أَعَمُّهُمُ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ با مقصد بات نَصِيحَةً وَاَعْظَمُهُمْ عِندَهُ مَنْزِلَةً أَحْسَنُهُمُ مُوَاسَاةً کے سوا کلام نہ فرماتے۔آپ صحابہ کی تالیف قلب فرماتے وَمُوَازَرَةً قَالَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ مَجْلِسِهِ فَقَالَ كَانَ اور انہیں متنفر نہ کرتے۔ہر قوم کے معزز فرد کی عزت کرتے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اور اُسے اُن پر والی بنا دیتے۔لوگوں کو ہوشیار کرتے اور اُن