شمائل النبی ؐ

Page 137 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 137

137 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 321 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ حَدَّثَنَا جُمَيعُ :321 حضرت حسن بن علی کہتے ہیں میں نے اپنے ماموں ابْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنِي ہند بن ابی حالہ سے رسول اللہ ﷺ کا حلیہ مبارک پوچھا رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مِنْ وَلَدِ ابِي هَالَةَ زَوجِ اور وہ نبی کریم ﷺ کا حلیہ خوب بیان کرتے تھے اور میں خَدِيجَةَ يُكْنى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ لَابِي هَالَةَ چاہتا تھا کہ وہ میرے سامنے اس کا کچھ تذکرہ کریں۔اس پر عَنِ الْحَسَنِ ابْنِ عَلِي قَالَ سَأَلْتُ خَالِي هِندَ بُنَ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ علی بارعب اور وجیہ شکل و أَبِي هَالَةَ وَكَانَ وَصَّافًا عَنْ حِلْيَةِ رَسُولِ اللهِ صورت کے تھے۔آپ کا چہرہ مبارک یوں چمکتا جیسے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَشْتَهِي أَنْ يَصِف چودھویں رات کا چاند، پھر انہوں نے یہ مکمل حدیث بیان لِي مِنْهَا شَيْئًا فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللہ کی۔حضرت حسنؓ کہتے ہیں میں نے یہ روایت حضرت حسین عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخُمًا مُفَجَّمًا يَتَلالَو وَجُهُهُ لا لُو سے ایک عرصہ تک چھپائے رکھی۔پھر اُن سے بیان کی تو مجھے الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ قَالَ معلوم ہوا کہ وہ اس بارہ میں مجھ پر سبقت لے جاچکے ہیں اور الْحَسَنُ فَكَتَمُتُهَا الْحُسَيْنَ زَمَانًا ثُمَّ حَدَّثْتُهُ مجھ سے پہلے ہی اُن سے وہ کچھ پوچھ چکے ہیں جو میں نے ان فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ عَمَّا سَالَتَهُ عَنْهُ سے پوچھا تھا بلکہ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ اپنے والد سے بھی وَوَجَدْتُهُ قَدْ سَأَلَ أَبَاهُ عَنْ مَدْخَلِهِ وَعَنُ آنحضور ﷺ کے گھر میں آنے اور جانے اور آپ کی شکل و مَخْرَجِهِ وَشَكْلِهِ فَلَمْ يَدَعُ مِنْهُ شَيْئًا قَالَ صورت کے بارے میں دریافت کر چکے ہیں اور کوئی بات بھی الْحُسَيْنُ فَسَأَلْتُ أَبِي عَنْ دُخُولِ رَسُولِ اللَّهِ باقی نہیں چھوڑی۔حضرت امام حسین فرماتے ہیں میں نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ إِذَا آوَى إِلَى اپنے والد سے رسول اللہ ﷺ کے گھر میں داخل ہونے کے مَنْزِلِهِ جَزَّأَ دُخُولَهُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءِ جُزَءً لِلَّهِ وَجُزْءٌ بارے میں پوچھا۔انہوں نے فرمایا کہ جب حضور تی ہے۔لِاهلِهِ وَجُزْءٌ لِنَفْسِهِ ثُمَّ جَزَّاً جُزءهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ گھر تشریف لاتے تو گھر کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم النَّاسِ فَيَرُدُّ ذَلِكَ بِالْحَاصَّةِ عَلَى الْعَامَّةِ وَلَا فرماتے۔ایک حصہ اللہ جلشانہ کے لئے وقف فرماتے ایک يَدْخِرُ عَنْهُمْ شَيْئًا وَكَانَ مِنْ سِيْرَتِهِ طَرِيقَتُهُ فِی حصہ اپنے اہل کے لئے اور ایک حصہ خود اپنے لئے۔پھر اپنے جزءِ الْأُمَّةِ اِبْثَارَاَهْلِ الْفَضْلِ بِإِذْنِهِ وَقَسَمَهُ عَلی حصہ کو بھی اپنے اور لوگوں کے درمیان بانٹ لیتے اور اس میں قَدْرِ فَضْلِهِمُ فِي الدِّينِ فَمِنْهُمُ ذُو الْحَاجَّةِ خاص صحابہ کے ذریعہ عام لوگوں تک (دین کی باتیں) وَمِنْهُمْ ذُو الحَاجَتَيْنِ وَمِنْهُمُ ذُو الْحَوَائِجِ پہنچاتے اور ان سے کوئی بات بچانہ رکھتے اور آپ کی سیرت