شمائل النبی ؐ — Page 135
شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 135 بَابُ مَا جَاءَ فِي تَوَاضُعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع و انکساری کا بیان 315 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَسَعِيدُ بْنُ 315 : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَحْرُومِيٌّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا أَنْبَأَنَا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری تعریف میں مبالغہ سے سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الْزُهْرِي عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ کام نہ لو جیسے نصاری نے عیسی بن مریم کی تعریف میں مبالغہ نہ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ سے کام لیا۔میں تو اللہ کا ایک بندہ ہوں۔اس لئے (مجھے) رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطَرَتِ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِنَّمَا أَنَا عَبْدُ اللهِ فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ۔:316 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ 316 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی امْرَأَةٌ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مجھے آپ سے ایک کام ہے۔آپ نے فرمایا: تم مدینہ کے فَقَالَتْ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً فَقَالَ اجْلِسِي فِي جس رستے میں چاہو بیٹھ جاؤ میں وہیں تمہاری خاطر بیٹھ أَي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ شِئتِ اَجُلِسُ إِلَيْكِ۔جاؤں گا۔317: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ 317 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول الله الله مُسْهِرٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِک بیمار کی عیادت فرماتے ، جنازوں میں شامل ہوتے ، گدھے پر قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سواری کر لیا کرتے ، غلام کی دعوت قبول فرماتے اور بنو قریظہ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيَشْهَدُ الْجَنَائِزَ وَيَرْكَبُ سے مقابلہ کے دن آپ ایک گدھے پر سوار تھے۔جس کی الْحِمَارَ وَيُجِيبُ دَعْوَةَ العَبْدِ وَكَانَ يَوْمَ بَنی لگام کھجور کی چھال کی تھی۔خطام اس کو کہتے ہیں کہ اس رہتی قُرَيْظَةَ عَلى حِمَارٍ مَخْطُومٍ بِحَبْلٍ مِنْ لِیف کے ایک طرف حلقہ ہو اور اس میں اس کا دوسرا کنارہ پر ویا ہوا وَهُوَ الْخِطَامُ وَهُوَ أَنْ يُجْعَلَ فِي طَرْفِهِ حَلْقَةٌ ہو ، اس طرح وہ ایک دائرہ بن جائے۔پھر اس کو اس کے وَيَسْلَكُ فِيْهَا طَرْفُهُ الْآخَرُ حَتَّى يَصِيرَ ذریعہ چلایا جائے۔اس پر کھجور کی چھال کا پالان تھا۔