شمائل النبی ؐ

Page 134 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 134

شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 134 بَابُ مَا جَاءَ فِى فِرَاشِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر کا بیان :313 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ اَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ :313 حضرت عائشہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رسول اللہ ﷺ کا بستر جس پر آپ سوتے تھے چمڑے کا تھا۔قَالَتْ إِنَّمَا كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله اس میں کچھ کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ مِنْ اَدَمٍ حَشْوُهُ لِيْفٌ۔:314 حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بنُ يَحْيَى :314 جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت الْبَصَرِيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عائشہ سے پوچھا گیا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ علے جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَتْ عَائِشَةُ کا بستر کیسا ہوتا تھا؟ آپ نے فرمایا وہ چمڑے کا تھا جس میں مَا كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کھجور کے ریشے بھرے تھے۔حضرت حفصہ سے پوچھا گیا وَسَلَّمَ فِي بَيْتِكِ؟ قَالَتْ مِنْ آدَمٍ حَشُرُهُ لِیف کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کا بستر کیسا ہوتا تھا؟ سُئِلَتْ حَفْصَةُ مَا كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللهِ صَلَّی انہوں نے فرمایا وہ پشم کا تھا میں اس کی دو نہیں لگا دیتی۔حضور اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِكِ؟ قَالَتْ مِسْحًا ثَنَيْتُه عﷺ اس پر سوتے تھے۔ایک رات میں نے سوچا کیوں نہ ينتَيْنِ فَيَنَامُ عَلَيْهِ فَلَمَّا كَانَ ذَاتُ لَيْلَةٍ قُلْتُ اس کی چار نہیں لگا دوں تو وہ آپ کے لئے زیادہ آرام دہ ہو لَوْ ثَنَيْتُهُ أَرْبَعَ ثِنْيَاتٍ كَانَ اَوْطَأَ لَهُ فَشَنَيْنَاهُ بِأَرْبَعِ جائے گا۔چنانچہ ہم نے اس کی چار ہیں لگا دیں۔جب صبح لِيَاتٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ مَا فَرَشْتُمُولِي اللَّيْلَةَ ہوئی تو آپ نے فرمایا تم نے رات میرے لئے کیا بچھایا تھا؟ قَالَتْ قُلْنَاهُوَ فِرَاشُكَ إِلَّا إِنَّا ثَنَيْنَاهُ بِأَرْبَعِ حضرت حفصہ کہتی ہیں میں نے عرض کی وہ آپ کا ہی بستر ثِنْيَاتٍ قُلْنَا هُوَ اَوْطَا لَكَ قَالَ رُدُّوهُ لِحَالَتِهِ تھا۔صرف ہم نے اس کی چار نہیں لگا دی تھیں تا کہ وہ آپ الأولى فَإِنَّهُ مَنَعَتُنِي وَطَاتُهُ صَلوتِي اللَّيْلَةَ۔کے لئے زیادہ آرام دہ ہو جائے۔آپ نے فرمایا: اسے پہلے جیسا ہی رہنے دو کیونکہ اس کی نرمی میرے لئے رات نماز میں روک بن رہی تھی۔بستر پر کھڑے ہوکر نماز پڑھنا کچھ دقت پیدا کرتا ہے۔