شمائل النبی ؐ — Page 127
127 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 298 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا 298 حضرت عوف بن مالک کہتے ہیں ایک رات میں عَبْدُ اللهِ بنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ رسول اللہ اللہ کے ساتھ تھا۔آپ نے مسواک کی پھر وضوء کیا عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ اور نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔میں بھی آپ کے قَالَ سَمِعْتُ عَوْفَ بُنَ مَالِكِ يَقُولُ كُنتُ مَعَ ساتھ کھڑا ہو گیا۔آپ نے نماز شروع کی اور سورہ بقرہ کی رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً تلاوت کرنے لگے۔آپ جب کسی رحمت والی آیت پر سے فَاسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ مَعَهُ گزرتے وہاں رک جاتے اور اُس (رحمت) کے طالب فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ الْبَقَرَةَ فَلَا يَمُرُّ بَآيَةٍ رَحْمَةٍ إِلَّا ہوتے اور جب عذاب کی آیت پر سے گزرتے وہاں رک وَقَفَ فَسَأَلَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابِ إِلَّا وَقَفَ جاتے اور (اس سے) پناہ مانگتے۔پھر آپ نے رکوع کیا وَتَعَوَّذَ ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَتَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ اور رکوع میں رہے جتنا قیام میں رہے تھے۔آپ رکوع وَيَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ میں کہتے پاک ہے اللہ جو بڑے غلبے والا اور بڑی حکومت والا وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ثُمَّ سَجَدَ اور کبریائی والا اور عظمت والا ہے۔پھر آپ نے رکوع کے بِقَدْرِ رُكُوعِهِ وَيَقُولُ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ ذِي برابر سجدہ کیا اور اپنے سجدوں میں کہا پاک ہے اللہ جو بڑے الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ ثُمَّ غلبے والا اور بڑی حکومت والا اور کبریائی اور عظمت والا ہے۔قَرَأَ آلَ عِمْرَانَ ثُمَّ سُوْرَةً سُوْرَةً يَفْعَلُ مِثْلَ پھر آپ نے آل عمران کی تلاوت فرمائی پھر ( ہر رکعت میں ) ایک ایک سورت اسی طرح تلاوت فرماتے رہے۔ذلك۔