شمائل النبی ؐ

Page 111 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 111

111 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم :258: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ :258 حضرت زید بن خالد الجبنی کہتے ہیں میں نے کہا کہ أَنَسِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسى حَدَّثَنَا میں رسول اللہ ﷺ کی نماز مشاہدہ کروں گا۔وہ کہتے ہیں کہ مَعَنْ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ أَبِي بَكْرٍ میں آپ کی چوکھٹ یا خیمہ پر سر رکھ کر لیٹ گیا۔حضور علی اے عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ نے دو ہلکی رکعتیں ادا کیں۔پھر دو لمبی رکعتیں ادا کیں جو بہت دو أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدِ الجُهَنِي أَنَّهُ قَالَ لمبی ، بہت لمبی تھیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں جو اس سے پہلی دو لَا رُمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رکعتوں سے کچھ کم لمبی تھیں۔پھر دو رکعتیں ادا کیں جو اس وَسَلَّمَ قَالَ فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ اَوْ فُسُطَاطَهُ فَصَلَّی سے پہلی دو رکعتوں سے کم لمبی تھیں۔پھر دورکعتیں ادا کیں جو رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ اس سے پہلی دو رکعتوں سے کم لمبی تھیں۔پھر دو رکعتیں ادا خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيْلَتَيْنِ طَوِيْلَتَيْنِ کیں جو اس سے پہلی دو رکعتوں سے کم لمبی تھیں۔پھر ایک طَوِيلَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَ هُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ رکعت کے ذریعہ ان کو وتر کیا۔یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئیں۔قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً۔:259 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَوْسَى حَدَّثَنَا مَعُنُ :259: ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدِ حضرت عائشہ سے پوچھا کہ رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی الْمَقْبُرِي عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ انَّهُ نماز کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ علیہ رمضان أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلوةُ میں اور رمضان کے علاوہ کبھی گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ پڑھتے تھے۔آپ چار رکعتیں پڑھتے۔یہ نہ پوچھو کہ وہ کتنی فَقَالَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حسین اور طویل ہوتی تھیں پھر آپ چار رکعتیں پڑھتے ان کی وَسَلَّمَ لِيَزِيدَ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلی خوبصورتی اور طوالت کے بارے میں نہ پوچھو۔پھر آپ تین إحدى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا لَا تَسْئَلُ عَنْ رکعت ادا کرتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے عرض کی حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا لَا تَسْتَلْ عَنْ یا رسول اللہ! آپ وتر ادا کرنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ آپ