شمائل النبی ؐ

Page 109 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 109

109 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم :253 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ 253 اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ عنہ کی رات کی نماز (تہجد) کے الْأَسْوَدِ بنِ يَزِيدَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ بارے میں پوچھا۔آپ نے فرمایا حضور ما رات کے پہلے عَنْهَا عَنْ صَلوةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حصہ میں سو جاتے پھر کھڑے ہو جاتے اور جب سحری کا وقت وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ ہوتا تو وتر ادا کرتے ، پھر اپنے بستر پر تشریف لے آتے۔اگر يَقُومُ فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْ تَرَ ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ آپ کو حاجت ہوتی تو اپنی بیوی کے پاس جاتے۔پھر جب فَإِذَا كَانَ لَهُ حَاجَةٌ أَلَمْ بِأَهْلِهِ فَإِذَا سَمِعَ الْآذَانَ اذان کی آواز سنتے تو فوڑا کھڑے ہو جاتے۔اگر آپ جنسی وَثَبَ فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ وَإِلَّا ہوتے تو اپنے اوپر پانی ڈالتے (یعنی غسل فرماتے ) ورنہ تَوَضَّأَ وَخَرَجَ إِلَى الصَّلوةِ۔وضوء فرماتے اور نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔:254 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ :254 حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے أَنَسِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَوْسَی الْأَنْصَارِيُّ ایک رات حضرت میمونہ کے پاس گزاری اور وہ آپ کی خالہ حَدَّثَنَا مَعْنْ عَنْ مَالِكِ عَنْ مَخْرَمَةَ بن تھیں وہ کہتے ہیں میں بستر کی چوڑائی کے رخ لیٹ گیا اور سُلَيْمَانَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ رسول اللہ ﷺ اس کی لمبائی کے رخ لیے۔رسول اللہ ہے أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ قَالَ سوئے رہے، یہاں تک کہ جب نصف رات گزر گئی یا اس فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةَ وَاضْطَجَعَ سے کچھ پہلے یا کچھ بعد تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے اور رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طُولِهَا چہرے پر ہاتھ پھیر کر نیند دور کرنے لگے پھر سورہ آل عمران کی فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا آخری دس آیات تلاوت فرمائیں۔پھر ایک لٹکے ہوئے انتَصَفَ اللَّيْلُ اَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيْل اَوْ بَعْدَهُ بِقَلِیل مشکیزے کی طرف گئے اور اس سے وضوء کیا اور بہت ہی فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اچھی طرح وضوء کیا پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ حضرت عبد الله بن عباس کہتے ہیں میں بھی آکر آپ کے پہلو الآيتِ الْخَوَاتِيمَ مِنْ سُوْرَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ میں کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر إِلَى شَيْ مُعَلَّقٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر مروڑا، ( میں بائیں