شمائل النبی ؐ — Page 108
شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 108 بَابُ مَا جَاءَ فِي عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا بیان 250: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ :250 حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے انہوں نے قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ عَلاقَةَ عَنِ کہا کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں کھڑے رہے یہاں تک کہ الْمُغِيرَةِ بُنِ شُعْبَةَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ آپ کے پاؤں متورم ہو گئے۔آپ سے عرض کی گئی کیا آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ اس قدر مشقت کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالی نے آپ کے متعلق اَتَتَكَلَّفُ هذا وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ کئے گئے وہ گناہ بھی ڈھانک دیئے ہیں جو پہلے گزر گئے اور جواب ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ: أَفَلَا اَكُوْنُ عَبْدًا شَكُورًا تک نہیں ہوئے۔آپ نے فرمایا: تو کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔251 حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارِ الحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ 251: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ مبارک متورم ہو جاتے۔راوی کہتے ہیں کہ آپ سے عرض کی اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِم گئی کہ آپ ایسا کرتے ہیں حالانکہ آپ کے بارہ میں یہ آپکا قَدْمَاهُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ أَتَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ جَاءَ كَ أَنَّ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق کئے گئے وہ گناہ بھی اللهَ تَعَالَى قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنبِكَ ڈھانک دیتے ہیں جو پہلے گزر گئے اور جو اب تک نہیں وَمَا تَأخَّرَ قَالَ أَفَلَا يَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا۔ہوئے۔آپ نے فرمایا: کیا میں اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔:252: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى بُنِ :252 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ علی سور تشکر میکنه عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّمَلِي حَدَّثَنِي عَمِّي يَحْيَى بُنُ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے۔یہاں تک کہ آپ کے عِيسَى الرَّمَلِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ پاؤں مبارک متورم ہو جاتے۔آپ سے کہا جاتا یا رسول اللہ! عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله آپ ایسا کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْمُ يُصَلِّى حَتَّى تَنتَفِخَ قَدَمَاهُ کئے گئے وہ گناہ بھی ڈھانک دیتے ہیں جو پہلے گزر گئے اور فَيُقَالُ لَهُ تَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا جو اب تک نہیں ہوئے۔آپ نے فرمایا: کیا میں اس کا شکر تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلَا أَكُونُ گزار بندہ نہ بنوں۔عَبْدًا شَكُورًا۔