شمائل النبی ؐ — Page 103
103 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم صَهِيْلٍ وَاطِيْطٍ وَدَائِسِ وَمُنَقٍ فَعِندَهُ أَقُولُ فَلا نے مجھے چند بکریوں والوں کے پاس پایا جو سخت زندگی گزار أَقَبَّحُ وَارْقُدُ فَاتَصَبَّحُ وَاشْرَبُ فَأَتَقَمَّحُ أَم أَبِي رہے تھے اور مجھے گھوڑوں اور اونوں والوں میں اور اناج زَرْعٍ فَمَا أُمَّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا گا ہنے والوں اور اسے صاف کرنے والوں میں لے آیا میں فَسَاحٌ إِبْنُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ اس کے سامنے بولتی ہوں تو مجھے برانہیں کہا جاتا۔میں سوتی مَضْجَعُهُ كَمَسَلَّ شَطْبَةٍ وَتُشْبِعُه ذِرَاعُ الْحَفْرَةِ ہوں تو صبح کر دیتی ہوں اور پیتی ہوں تو سیر ہو جاتی ہوں۔بِنتُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا بِئْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوَعُ آبِيْهَا ابوزرع کی ماں! کیا ہی خوب ابوزرع کی ماں ہے۔اس کے وَطَوُعُ اُمِهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا غلہ کے تھیلے بڑے بڑے اور بھاری ہیں اور اس کا گھر کشادہ جَارِيَةٌ أَبِي زَرْعٍ فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُت ہے ابوزرع کا بیٹا! ابوزرع کا کیا ہی اچھا بیٹا ہے اس کا بستر حَدِيثَنَا تَبْشِيْئًا وَلَا تَنْقُتُ مِيْرَتَنَا تَنقِيْئًا وَلَا تَماد ایسا ہے جیسے کھجور کی باریک ہری ڈالی اور بکری کے بچے کی بَيْتَنَا تَغْشِيْشًا قَالَتْ خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْا وطَابُ ایک دستی بھی اسے سیر کر دیتی ہے۔ابو زرع کی بیٹی ! اور تُمُخَضْ فَلَقِيَ امْرَأَةٌ مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ ابوزرع کی بیٹی کیا ہی خوب ہے۔اپنے ماں باپ کی يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَني فرمانبردار۔ایسی موٹی تازی کہ اپنی چادر کو بھر دے جو ہمسائی وَنَكَحَهَا نَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا رَكِبَ شَرِیا کے لئے باعث رشک ہے۔ابوزرع کی لونڈی ! ابوزرع کی وَاَخَذَ خَطِيَّا وَاَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيَّا وَاَعْطَانِي لونڈی بھی کیا خوب ہے۔نہ ہماری باتوں کی تشہیر کرتی نہ ہمارا مِنْ كُلِّ رَائِحَةِ زَوْجًا وَقَالَ كُلِي اُمَّ زَرْعٍ کھانا چراتی ہے اور ہمارے گھر خیانت اور چغل خوروں سے وَمِيْرِي أَهْلَكِ فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ نہیں بھرتی۔اُس نے کہا: ایک دن ابوزرع ( گھر سے ) نکلا مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ جب کہ دودھ کے برتن بلوئے جا رہے تھے۔وہ ایک عورت لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنتُ سے ملا جس کے ساتھ اس کے دولڑ کے تھے جیسے دو چیتے۔وہ لَكِ كَابِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ۔اس کے پہلو کے نیچے دوا ناروں سے کھیل رہے تھے۔پس ابو زرع نے مجھے طلاق دے دی اور اس کے ساتھ نکاح کر لیا۔اس کے بعد میں نے بھی ایک شریف آدمی سے نکاح کر لیا جو بہترین گھڑ سوار اور نیزہ باز تھا۔اُس نے مجھے بہت سی نعمتیں دیں اور ہر قسم کے مویشیوں میں سے جوڑا جوڑا مجھے