شمائل النبی ؐ — Page 102
شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 102 قَالَتِ السَّادِسَةُ زَوْجِيِّ إِنْ أَكَلَ لَكَ وَاِن چھٹی نے کہا میرا خاوند کھانے لگے تو سب کچھ سمیٹ جائے شَرِبَ اشْتَدَّ وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ وَلَا يُولِجُ اور اگر پینے لگے تو سب کچھ چڑھا جائے اور اگر سوئے تو الگ کپڑے میں لپٹ جاتا ہے ہاتھ بھی نہیں بڑھاتا تا وہ میرے الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثْ ہم و غم کو جانے۔قَالَتِ السَّابِعَةُ زَوْجِي عَيَايَاءُ اَوْغَيَايَاءُ ساتویں نے کہا میرا خاوند نامردیا (کہا) بھٹکا ہوا ہے، احمق طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّک او فلک ہے۔ہر قسم کی مرض کا مارا ہوا ہے اور (اخلاق ایسے ہیں کہ أَوْ جَمَعَ كُلَّا لَكِ۔کبھی ) تیرا سر پھوڑے یا ہاتھ پاؤں توڑے یا دونوں کام کرے۔قَالَتِ الثَّامِنَةُ زَوْجِي المَسُّ مَسُّ اَرْنَبِ آٹھویں نے کہا: میرا خاوند چھوؤ تو خرگوش کی طرح (نرم) وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ اور (اس کی) خوشبوز عفران کی خوشبو۔قَالَتِ التَّاسِعَةُ زَوْجِي رَفِيعُ العِمَاد عظیم نویں نے کہا میرا خاوند بلند عمارت والا ہے اور بہت مہمان الرَّمَادِ طَوِيلُ النِجَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ۔نواز ہے اور قد آور بہادر ہے مجلس مشورہ کے قریب ہی اس کا گھر ہے۔قَالَتِ العَاشِرَةُ زَوْجِي مَالِكٌ وَمَا مَالِكُ دسویں نے کہا میرا خاوند مالک ہے اور کیسا مالک ہے! مالک مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكِ لَهُ إِبل كَثِيرَاتُ اس سے کہیں بہتر ہے ( جو تم نے بیان کیا)۔اس کے اونٹ الْمَبَارِكِ قَلِيْلاتُ الْمَسَارِحِ إِذَا سَمِعْنَ ( مہمانوں کیلئے بیٹھنے کی جگہ پر تو بکثرت ہوتے ہیں چرنے کی جگہ میں کم ملتے ہیں۔جب وہ باجے کی آواز سنتے ہیں (جو صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ۔مہمانوں کی آمد کا اعلان ہے ) تو یقین کر لیتے ہیں کہ اب وہ ذبح ہونے والے ہیں۔قَالَتِ الْحَادِيَةُ عَشْرَةَ زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ وَمَا گیارہویں نے کہا میرا خاوند ابو زرع ہے۔اور کیا ہی خوب اَبُوْزَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيِّ أذْنَيَّ وَمَلَا مِنْ شَحْمِ ابوزرع ہے۔اُس نے زیورات سے میرے کان جھکا دیئے عَضُدَيَّ وَبَجَّحَنِي فَبَجَحَتْ إِليَّ نَفْسِي اور گوشت سے میرے بازوموٹے کر دیئے اُس نے مجھے وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍ فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ خوش رکھا تو میں خوش ہو کر اپنے آپ پر فخر کرنے لگی۔اُس