شمائل النبی ؐ — Page 101
شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 101 حَدِيثُ أُم زرع ام زرع کا قصہ :243 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى 243 حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ (ایک مرتبہ ) ابْنُ يُونُسَ بْنِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَخِيهِ گیارہ عورتیں بیٹھیں۔انہوں نے باہم عہد و پیمان کیا کہ وہ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَلَسَتْ اپنے خاوندوں کے حالات میں سے کچھ نہ چھپائیں گی۔إحدى عَشْرَةَ امْرَأَةً فَتَعَاهَدُنَ وَتَعَاقَدُنَ أَنْ لَّا يَكْتُمُنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا فَقَالَتِ الْأُولَى زَوْجِئْ لَحْمُ جَمَلٍ عَب عَلی پہلی نے کہا میرا خاوند تو لاغر اونٹ کا گوشت ہے جو دشوار گزار رَأْسِ جَبَلٍ وَعْرٍ لَا سَهُلْ فَيُرْتَقى وَلَا سَمِینٌ پہاڑ کی چوٹی پر ہو نہ وہ ( پہاڑ ) ہموار ہے کہ اس پر چڑھا جائے اور نہ وہ گوشت موٹا ہے جسے لایا جائے۔فَيُنتَقَلُ قَالَتِ الثَّانِيَةُ زَوْجِي لَا أَبْتُ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ دوسری نے کہا میں اپنے خاوند کی خبر نہیں پھیلاؤں گی۔مجھے أَنْ لَّا أَذَرَهُ إِنْ اَذْكُرْهُ اذْكُرْ عُجَرَهُ وَ بُجَرَهُ۔ڈر ہے کہ اگر میں اس کا ذکر کروں تو (اس کے عیوب کے ) ذکر سے باز نہ رہ سکوں گی ذکر کروں تو اس کے ظاہری و باطنی سب عیوب بیان کر دوں گی۔قَالَتِ الثَّالِثَةُ زَوْجِي العَشَقُ إِنْ انْطِقُ أطلق تیری نے کہا میرا خاوند غیر معمولی طور پر لمبا ہے اگر میں (اس کے خلاف) بولوں تو مجھے طلاق ہو جائے اور اگر چپ وَإِنْ اَسْكُتْ أُعَلَّقَ رہوں تو یوں ہی لٹکتی رہوں۔قَالَتِ الرَّابِعَةُ زَوْجِيَ كَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرٌّ وَلَا چوتھی نے کہا میرا خاوند تہامہ کی رات کی طرح نہ گرم ہے نہ ٹھنڈا نہ اس سے کوئی خوف ہے نہ اکتا ہٹ۔قَرٌّ وَلَا مَخَافَةَ وَلَا سَامَّةَ قَالَتِ الْخَامِسَةُ زَوْجِيِّ إِنْ دَخَلَ فَهِدَ إِن خَرَجَ پانچویں نے کہا میرا خاوند گھر داخل ہو تو چیتا ہے باہر نکلے تو شیر ہے اور جو دیکھتا ہے اس کے بارہ میں پوچھ کچھ نہیں کرتا۔اسِدَ وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ