شمائل النبی ؐ — Page 3
3 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ دھاری تھی جب آپ چلتے تو ذرا آگے کو جھکے ہوتے گویا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ آپ بلندی سے اتر رہے ہوں۔میں نے نہ آپ سے پہلے شَحْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَ مَيْنِ ضَخْمَ الرَّأْسِ ضَخْم نہ آپ کے بعد آپ کے جیسا دیکھا۔الْكَرَادِيسِ طَوِيلَ الْمَسْرُبَةِ إِذَا مَشَى تَكَفَّاً تَكَفُّوا كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ۔6 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ 6 ابراہیم بن محمد جو حضرت علی کی اولاد میں سے ہیں۔الْمَسْعُودِي بِهَذَا الْأَسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ حَدَّثَنَا بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رسول اللہ ﷺ کا حلیہ بیان أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ کرتے تو فرماتے نہ رسول اللہ یہ بہت ہی زیادہ لمبے تھے حُجْرٍ وَاَبُوْ جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ وَهُوَ ابْنُ نہ ہی بہت پستہ قد کے تھے کہ اعضاء ایک دوسرے میں حَلِيْمَةَ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالُوا حَدَّثَنَا عِیسَی پیوست ہوں بلکہ آپ لوگوں میں درمیانہ قد کے تھے۔نہ ابْنُ يُونُسَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَولَى غُفْرَةَ آپ کے بال بہت گھنگریالے تھے نہ بالکل سید ھے۔کسی قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِي قدر دار تھے۔نہ ہی آپ فربہ تھے اور نہ ہی نحیف الجسم۔نہ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ إِذَا وَصَفَ ہی گال پھولے ہوئے تھے بلکہ آپ کا چہرہ کسی قدر گول رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَكُنُ تھا۔رنگ سرخی مائل سفید تھا۔آنکھیں نہایت سیاہ پلکیں دراز، رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّوِيلِ جوڑوں کی ہڈیاں مضبوط اور کندھے فراخ تھے۔بدن پر بال الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبِّعَةً مِنَ نہ تھے (صرف) سینے سے ناف تک بالوں کی لکیر تھی۔دونوں الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنُ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبُطِ ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے۔جب چلتے تو مضبوطی كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَّلَمْ يَكُنُ بِالْمُطَهَّم سے پاؤں اُٹھا کر چلتے گویا کہ آپ ڈھلوان سے اتر رہے وَلَا بِالمُكَلْتَم وَكَانَ فِي وَجْهِهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ ہوں۔جب کسی طرف) رُخ فرماتے تو پوری طرح مُشْرَبْ اَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الْاَشْفَارِ جَلِيلُ فرماتے۔آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی الْمُشَاشِ وَالْكَتَدِ اجْرَدُ ذُو مَسْرُبَةٍ شَأْنُ اور آپ خاتم النبین ہیں۔آپ لوگوں میں سب سے زیادہ بنی ا طَوِيلُ الْمَسْرُبَةِ کے معنے بعض لوگوں نے آنکھوں کے کوئے باریک اور لمبے بھی کئے ہیں۔