شمائل النبی ؐ — Page 97
شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جُنُدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَهُ۔97 236 : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى 236 حضرت براء بن عازب سے روایت ہے انہوں نے ابْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ النَّوْرِيُّ حَدَّثَنَا کہا کہ ایک شخص نے ان سے کہا اے ابو عمارہ! ( یہ ان کی أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ لَهُ کنیت تھی) کیا تم رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر ( جنگ حنین کے رَجُلٌ اَفَرَرْتُمُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دن بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم وَسَلَّمَ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَقَالَ لَا مَا وَاللهِ مَا وَلَّى رسول الله ﷺ ہر گز پیچھے نہیں ہے بلکہ جلد باز لوگ جب رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِن وَلی کہ اُن پر ہوازن نے تیر برسائے واپس پلٹ گئے اور سَرَعَانُ النَّاسِ تَلَقَّتْهُمُ هَوَازِنُ بِالنَّبَلِ وَرَسُولُ رسول الله ﷺ اپنی خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْلَتِهِ وَاَبُوْ سُفْيَانَ بن عبد المطلب اس فیچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور بنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِلِجَامِها رسول اللہ ﷺ فرما ر ہے تھے۔وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ میں نبی ہوں یہ ہرگز جھوٹ نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں :237 حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بُنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا 237 حضرت انس سے روایت ہے کہ عمرۃ القضاء کے عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا موقع پر نبی کریم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے آگے ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابن رواحہ چل رہے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے۔اے کفار کے بیٹو! آپ کا رستہ چھوڑ دوور نہ آج دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَابْنُ رَوَاحَةَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ خَلُوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيْلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبُكُمُ عَلَى تَنْزِيْلِهِ ہم تمہیں خدا کے کلام کے اترنے کی بناء پر ایسی مار ماریں گے جو کھوپڑی کو اس کی جگہ سے جدا کر دے گی اور ایک دوست کو اس کا دوست بھلا دے گی۔ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ اس پر حضرت عمرؓ نے انہیں کہا: اے ابن رواحہ ! رسول اللہ اللہ وَيُذْهَلُ الْخَلِيْلَ عَنْ خَلِيلِهِ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں تم شعر کہہ رہے ہو؟ اس پر