شمائل النبی ؐ

Page 94 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 94

شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا قَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا۔94 :230: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ 230 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک شخص عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ نے رسول اللہ ملے سے سواری مانگی تو آپ نے فرمایا: میں رَجُلًا اسْتَحْمَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سواری کے لئے تجھے اونٹنی کا بچہ دوں گا۔اس پر اُس نے کہا وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ فَقَالَ یا رسول اللہ ! میں اونٹنی کا بچہ لے کر کیا کروں گا ؟ اس پر يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اونٹ ، اونٹیوں ہی کے بچے نہیں رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ تَلِدُ ہوتے ؟ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ۔:231 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا :23:1 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک بادیہ عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ نشین شخص جس کا نام زاہر تھا۔وہ حضور ے کے لئے صحراء مَالِكِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانَ اسمُهُ سے تحفے لایا کرتا تھا جب وہ واپس جانے کا ارادہ کرتا تو زَاهِرًا وَكَانَ يُهْدِي إِلى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضور ﷺے اس کے لئے ( کچھ ) سامان تیار کرواتے۔نبی وَسَلَّمَ هَدِيَّةٌ مِنَ الْبَادِيَةِ فَيُجَهَرُهُ النَّبِيُّ صَلَّى کریم ﷺ نے فرمایا: زاہر ہمارا بدوی دوست ہے اور ہم اس اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فَقَالَ النَّبِيُّ کے شہری دوست ہیں اور رسول اللہ علی ہے اس سے محبت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ کرتے تھے اور وہ معمولی شکل وصورت آدمی تھے۔ایک دن نبی حَاضِرُوهُ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کریم ﷺے اس کے پاس تشریف لے گئے جب کہ وہ اپنا وَسَلَّمَ يُحِبُّهُ وَكَانَ رَجُلًا دَمِيْمَا فَأَتَاهُ النَّبِيُّ سامان بیچ رہا تھا اور آپ نے پیچھے سے آکر اس کی کمر میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ اپنے بازوڈال دیئے اور وہ آپ کو دیکھ نہ سکتا تھا۔اُس نے وَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَلَا يُبْصِرُهُ فَقَالَ مَنْ کہا یہ کون ہے؟ مجھے چھوڑ دو۔پھر جب اس نے توجہ کی تو نبی هَذَا؟ أَرْسِلْنِي فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيَّ صَلَّى الله کریم ﷺ کو پہچان لیا۔جب وہ آپ کو پہچان گیا تو اپنی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ لَا يَأْلُوا مَا الْصَقَ ظَهْرَهُ پشت کو نبی ﷺ کے سینہ مبارک پر خوب خوب چمٹانے لگا بِصَدْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْنَ عَرَفَهُ پھر نبی ﷺ فرمانے لگے اس غلام کو کون خریدے گا؟ اُس