صحیح مسلم (جلد پانز دہم)

Page 70 of 279

صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 70

صحیح مسلم جلد پانزدهم 70 كتاب الفتن واشراط الساعة حُذَيْفَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ أَيُّكُمْ میں نے عرض کیا کہ مجھے۔انہوں نے فرمایا تم بہت يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جرات مند ہو۔آپ نے کس طرح فرمایا تھا ؟ وہ کہتے وَسَلَّمَ فِي الْفتْنَة كَمَا قَالَ قَالَ فَقُلْتُ أَنا ہیں میں نے عرض کیا کہ میں نے رسول اللہ علیہ کو قَالَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ وَكَيْفَ قَالَ قَالَ قُلْتُ فرماتے ہوئے سنا کہ آدمی کا جو فتنہ اس کے اہل ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس کے مال، اس کے اپنے نفس، اس کی اولاد، اس يَقُولُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ کے پڑوسی میں ہوتا ہے۔اس کا کفارہ کرتے ہیں وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفَرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ روزه، نماز ،صدقہ ، نیکی کا حکم دینا اور نا پسندیدہ بات وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ سے روکنا۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا میری یہ مراد الْمُنْكَرِ فَقَالَ عُمَرُ لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ إِنَّمَا أُرِيدُ نہیں ہے، میری مراد تو اس (فتنہ ) سے ہے جو الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ قَالَ فَقُلْتُ مَا سمندر کی موجوں کی طرح موجیں مارے گا۔وہ لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے امیر المؤمنین ! بَابًا مُعْلَقًا قَالَ أَفَيَكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ آپ کو اس فتنہ سے کیا؟، یقینا آپ کے اور اس کے قُلْتُ لَا بَلْ يُكْسَرُ قَالَ ذَلكَ أَحْرَى أَنْ لَا در میان تو ایک بند دروازہ ہے۔انہوں نے فرمایا کیا يُعْلَقَ أَبَدًا قَالَ فَقُلْنَا لِحُذَيْفَةَ هَلْ كَانَ عُمَرُ وہ تو ڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ وہ کہتے ہیں میں يَعْلَمُ مَنَ الْبَابُ قَالَ نَعَمْ كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدَ اللَّيْلَةَ إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيط نے کہا نہیں بلکہ تو ڑا جائے گا۔انہوں (حضرت عمرؓ) نے فرمایا اگر ایسا ہے تو پھر کبھی بند نہ ہوگا۔راوی کہتے قَالَ فَهِبْنَا أَنْ تَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنَ الْبَابُ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ (27) و ہیں ہم نے حضرت حذیفہ سے کہا کیا حضرت عمرؓ کو حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدِ پتہ تھا کہ وہ دروازہ کون ہے؟ انہوں نے کہا ہاں جیسے الْأَسْجُ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وہ دن کے بعد رات کے آنے کو جانتے تھے۔میں بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ حَدَّثَنَا نے یقیناً انہیں ایسی بات بتائی جس میں غلطیاں ح و إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُس نہیں۔راوی کہتے ہیں کہ ہم ڈرے کہ حضرت حذیفہ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سے اس بارہ میں پوچھیں کہ وہ دروازہ کون ہے؟ ہم