صحیح مسلم (جلد پانز دہم)

Page 47 of 279

صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 47

صحیح مسلم جلد پانزدهم 47 كتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها۔ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ كُنتُ مَعَ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا ہم پہلی رات کا چاند دیکھنے لگے اور میری نظر تیز تھی بَانُ بْنُ فَرُّوحَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ میں نے اسے دیکھ لیا اور میرے علاوہ کسی اور نے نہیں الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ كُنَّا کہا کہ اُس نے بھی دیکھا ہے۔میں حضرت عمرؓ سے عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَتَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ کہنے لگا کیا آپ نہیں دیکھ رہے وہ اسے دیکھ مع وَكُنْتُ رَجُلًا حَدِيدَ الْبَصَرِ فَرَأَيْتُهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ نہیں پائے تھے۔راوی کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے يَزْعُمُ أَلَهُ رَآهُ غَيْرِي قَالَ فَجَعَلْتُ أَقُولُ لَعُمَرَ کہا میں اسے دیکھ لوں گا اور میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا أَمَا تَرَاهُ فَجَعَلَ لَا يَرَاهُ قَالَ يَقُولُ عُمَرُ سَأَرَاهُ ہوں گا۔پھر انہوں نے ہمیں بدر ( میں ہلاک ہونے ) وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَى فِرَاشِي ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّلُنَا عَنْ والوں کے متعلق بتانا شروع کیا اور کہا رسول اللہ ملے أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے ہمیں (جنگ سے ) ایک دن قبل بدر ( میں قتل وَسَلَّمَ كَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرِ بِالْأَمْس ہونے ) والوں کے گرنے کی جگہیں دکھا ئیں۔آپ يَقُولُ هَذَا مَصْرَعُ فَلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ فرماتے تھے کل انشاء اللہ یہ فلاں کے گرنے کی جگہ فَقَالَ عُمَرُ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَنُوا ہوگی۔راوی کہتے ہیں حضرت عمر نے کہا اس ذات کی الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجادہ (گرنے والے ) رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی جگہوں سے وَسَلَّمَ قَالَ فَجُعَلُوا فِي بِتْرِ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَالطَّلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادھر ادھر نہیں ہوئے۔راوی کہتے ہیں پھر وہ سب حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَقَالَ يَافُلَانَ بْنَ فُلَانِ وَ يَا فُلَانَ ایک دوسرے کے اوپر ایک گڑھے میں ڈالے گئے۔بْنَ فَلَانٍ هَلَ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ پھر رسول اللہ ﷺے چلے یہاں تک کہ ان کے پاس حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللهُ حَقًّا قَالَ پہنچے اور فرمایا اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں کیا تم نے اس وعدہ کو جو اللہ اور اس کے رسول عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ الله نے تم سے کیا تھا سچا پا لیا ؟ یقینا میں نے تو جو مجھ سے أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ مَا أَنتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ اللہ نے وعدہ کیا تھا سچا پایا۔حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کیسے ان جسموں سے گفتگو کرتے ہیں جن میں روحیں نہیں ہیں۔آپ نے فرمایا جو میں شَيْئًا [7222]