صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 215
سحیح مسلم جلد پانزدهم 215 كتاب الزهد والرقائق فَقَالَ لِي أَبِي احْمِلْهُ فَحَمَلْتَهُ وَخَرَجَ أَبِي اور میرے والد بھی ان کے ساتھ اس کی قیمت لینے مَعَهُ يَنْتَقدُّ ثَمَنَهُ فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا أَبَا بَكْر کے لئے چل پڑے میرے والد نے ان سے کہا اے حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا لَيْلَةَ سَرَيْتَ مَعَ ابو بکر مجھے یہ بتائیں کہ آپ جب رسول اللہ ﷺ کے ا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ ساتھ رات کو سفر پر نکلے تو آپ دونوں نے کیا کیا ؟ أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا كُلَّهَا حَتَّى قَامَ قَائمُ الظَّهيرة انہوں نے کہا کہ ہم ساری رات چلتے رہے یہانتک وَخَلَا الطَّرِيقُ فَلَا يَمُرُّ فيه أَحَدٌ حَتَّى رُفِعَت کہ دو پہر ہوگئی اور راستہ خالی ہو گیا اور اس راستہ میں لَنَا صَحْرَةً طَوِيلَةٌ لَهَا ظَلٌّ لَمْ تَأْتِ عَلَيْهِ کوئی چلنے والا نہ رہا یہانتک کہ ایک بلند چٹان الشَّمْسُ بَعْدُ فَتَزَلْنَا عِنْدَهَا فَأَتَيْتُ الصَّحْرَةَ ہمارے سامنے آئی اس کا سایہ تھا ابھی اس پر دھوپ نہیں آئی تھی۔ہم اس کے قریب اترے۔میں اس فَسَوَّيْتُ بِيَدِي مَكَانًا يَنَامُ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى پتھر کے پاس آیا اور اپنے ہاتھ سے ایک جگہ کو برابر کیا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظُلْهَا ثُمَّ بَسَطْتُ عَلَيْهِ جہاں نبی ہے اس کے سائے میں سو جائیں اور فَرْوَةً ثُمَّ قُلْتُ لَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا أَنْفُضُ میں نے فر (fur) کی چادر بچھادی اور عرض کی لَكَ مَا حَوْلَكَ فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَلْفُضُ مَا يا رسول اللہ! آپ سوجائیں، میں آپ کا پہرہ دیتا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ مُقْبِلِ بِغَنَمِهِ إِلَى ہوں چنانچہ آپ سو گئے۔میں آپ کے پہرہ کے لئے الصَّحْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا الَّذِي أَرَدْنَا فَلَقِيتُهُ نکلا تو میں نے سامنے سے ایک چرواہے کو اپنی بکریوں فَقُلْتُ لِمَنْ أَنتَ يَا غُلَامُ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ کے ساتھ اس چٹان کی طرف آتے دیکھا اس کا بھی أَهْلِ الْمَدِينَة قُلْتُ أَفِي غَنَمكَ لَبَنْ قَالَ نَعَمْ وہی مقصد تھا جو ہمارا تھا۔میں اسے ملا اور کہا کہ قُلْتُ أَفَتَحْلُبُ لِي قَالَ نَعَمْ فَأَخَذَ شَاةٌ اے لڑکے تم کس کے (ملازم) ہو ؟ اس نے کہا کہ اہل (مدینہ ) میں سے ایک شخص کا۔میں نے کہا کیا فَقُلْتُ لَهُ الْقُضِ الضَّرْعَ مِنَ الشَّعَرِ وَالتَّرَابِ وَالْقَذَى قَالَ فَرَأَيْتُ الْبَرَاءَ تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا ہاں میں نے کہا کیا تم میرے لئے دودھ دوہو گے؟ اس نے کہا يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى يَنْقُضُ فَحَلَبَ ہاں اس نے بکری لی میں نے کہا کہ اس کے تھن سے لِي فِي قَعْبِ مَعَهُ كُتْبَةٌ مِنْ لَبَن قَالَ وَمَعِي بال ہٹی اور گندگی جھاڑ دو۔راوی کہتے ہیں کہ میں إدَاوَةٌ أَرْتَوِي فِيهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے براء کو دیکھا کہ وہ اپنا ہاتھ دوسرے پر مارر ہے