صحیح مسلم (جلد پانز دہم)

Page 206 of 279

صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 206

صحیح مسلم جلد پانزدهم 206 كتاب الزهد والرقائق يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَتُصَلِّي فِي ثَوْبِ وَاحِدٍ وَرِدَاؤُكَ إِلَى جَنْبِكَ قَالَ فَقَالَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي هَكَذَا وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابَعهِ وَقَوَّسَهَا وَأَلْبَسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ وَكَانَ أَنْ أَعْطَيْتُهُ اے اللہ! اس کو برکت دے۔اے میرے بھتیجے ! مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ من میری ان دو آنکھوں نے دیکھا اور ان دوکانوں نے حَسَنَاتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا اور انہوں نے جَابِرَ بْنَ عَبْد الله في مَسْجده وَهُوَ يُصَ مَسْجِدهِ وَهُوَ يُصَلِّي اپنے دل کی جگہ کی طرف اشارہ کیا۔رسول اللہ علیہ رسول فِي ثَوْبِ وَاحِدٍ مُسْتَمِلًا بِهِ فَتَخَطَّيْتُ الْقَوْمَ نے فرمایا انہیں کھلاؤ جس میں سے تم کھاتے ہو اور حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَقُلْتُ انہیں وہ پہناؤ جو تم پہنتے ہو اور یہ بات مجھ پر زیادہ آسان ہے کہ میں اسے (اس) دنیا کے مال ومتاع میں سے دوں بہ نسبت اس بات کے کہ قیامت کے روز وہ میری نیکیوں میں سے لے لے۔پھر ہم چلے یہانتک کہ حضرت جابر بن عبد اللہ کی مسجد میں ان أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ الْأَحْمَقُ مُثْلُكَ کے پاس پہنچے وہ ایک چادر لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے فَيَرَانِي كَيْفَ أَصْنَعُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ أَتَانَا تھے۔میں لوگوں کے اوپر سے گزرتا ہوا ان کے اور رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قبلہ کے درمیان جا بیٹھا۔میں نے کہا اللہ آپ پر رحم مَسْجِدَنَا هَذَا وَفي يَده عُرْجُونُ ابْنِ طَابِ کرے کیا آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُحَامَةً فَحَكْهَا اور آپ کی چادر آپ کے پہلو میں ہے۔راوی کہتے بِالْعُرْجُونِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَيُّكُمْ يُحِبُّ ہیں انہوں نے اپنے ہاتھ سے میرے سینہ پر اس طرح اشارہ کیا کہ انگلیوں میں فاصلہ دیا اور ان کو خم أَنْ يُعْرضَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَحَشَعْنَا ثُمَّ قَالَ أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الله دیا ( اور کہا ) میں چاہتا تھا کہ تم جیسا بے وقوف میرے پاس آئے اور دیکھے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور وہ بھی فَحَشَعْنَا ثُمَّ قَالَ أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ الله ایسا ہی کرے۔رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ہماری عَنْهُ قُلْنَا لَا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ فَإِنَّ اس مسجد میں تشریف لائے تھے اور آپ کے ہاتھ میں أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ ابن طاب ( کھجور ) کی ایک ٹہنی تھی۔آپ نے مسجد وَتَعَالَى قِبَلَ وَجْهِهِ فَلَا يَنْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ کے قبلہ میں رینٹھ دیکھی تو اسے کھجور کی ٹہنی سے کھرچ