صحیح مسلم (جلد پانز دہم)

Page 203 of 279

صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 203

سحيح مسلم جلد پانزدهم 203 كتاب الزهد والرقائق أَفْوَاهِ السِّكَكَ فَحُدَّت وَأَضْرَمَ النِّيرَانَ تنے پر مجھے لٹکاؤ۔پھر میرے ترکش سے تیرلو اور اس وَقَالَ مَنْ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ دِينِهِ فَأَحْمُوهُ فِيهَا تیر کو کمان کے اندر رکھو اور کہو اللہ کے نام کے ساتھ جو أَوْ قِيلَ لَهُ اقْتَحِمْ فَفَعَلُوا حَتَّى جَاءَتْ اس لڑکے کا رب ہے پھر مجھے تیر مارو اگر تم ایسا کرو گے تو مجھے مارسکو گے۔چنانچہ اس نے لوگوں کو ایک امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَتَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ میدان میں جمع کیا اور ایک تنے پر اسے لڑکا یا پھر اس فِيهَا فَقَالَ لَهَا الْعُلَامُ يَا أُمَّهُ اصْبِرِي فَإِنَّكِ کے ترکش سے ایک تیر لیا اور تیر کو کمان میں رکھا اور کہا عَلَى الْحَقِّ [7511] اللہ کے نام کے ساتھ جو اس لڑکے کا رب ہے پھر اسے تیر مارا تو تیر اس کی کن پٹی پر لگا اس نے اپنے ہاتھ کو اپنی کن پٹی پر تیر کی جگہ پر رکھا اور مرگیا لوگوں نے کہا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے لوگ بادشاہ کے پاس آئے اور اسے کہا دیکھو اللہ کی قسم ! جو تمہارا ڈر تھا وہی تم پر نازل ہو گیا۔لوگ ایمان لے آئے ہیں۔اس (بادشاہ) نے راستوں کے سروں پر کھائی کھودنے کا حکم دیا چنانچہ کھائیاں کھودی گئیں اور اس نے آگیں بھڑ کا ئیں اور اس نے کہا کہ جو اپنے دین سے نہ پھرے، اسے اس میں جلا دو یا یہ کہا گیا اسے کہو کہ آگ میں داخل ہو جائے۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا یہا مٹک کہ ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا وہ پیچھے ہٹی مبادا اس میں گر جائے۔بچے نے اسے کہا کہ اے میری ماں صبر کر یقینا تو حق پر ہے۔