صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 162
162 كتاب الزهد والرقائق صحیح مسلم جلد پانزدهم أَسْأَلُكَ بالذي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةٌ أَتَبَلِّغُ جسے اللہ نے عطا کیا ہے۔اس نے کہا کہ میں تو اس بِهَا فِي سَفَرِي فَقَالَ قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللهُ مال کا نسل در نسل وارث ہوں۔اس نے کہا کہ اگر تم إِلَيَّ بَصَرِي فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں تمہاری پہلی حالت کی طرف فَوَاللَّهِ لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ شَيْئًا أَخَذْتَهُ لله لوٹادے گا۔فرمایا وہ (فرشتہ ) گنجے کے پاس اس کی فَقَالَ أَمْسِكْ مَالَكَ فَإِنَّمَا ابْتَلِيتُمْ فَقَدْ رُضَيَ (پرانی ) صورت میں آیا اور اسے بھی وہی کہا جو پہلے کو کہا تھا اور اس نے وہی جواب دیا جو پہلے نے جواب عَنْكَ وَسُخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ [7431] دیا تھا اس پر اس نے کہا اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تجھے ویسا ہی کر دے جیسے تو تھا فرمایا پھر وہ اندھے کے پاس اس کی شکل وصورت میں آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین شخص مسافر ہوں میرے سفر کے سب ذرائع کٹ چکے ہیں۔آج اللہ اور پھر تمہارے بغیر میرا ( منزل تک پہنچنا ناممکن ہے۔میں تم سے اس کے واسطہ سے جس نے تمہاری نظر تمہیں لوٹائی ہے ایک بکری مانگتا ہوں جو میرے سفر میں مجھے کفایت کر جائے۔اس پر اس نے کہا کہ میں اندھا تھا اللہ نے مجھے میری نظر لوٹائی۔پس جو تو چاہے لے لے اور جو تو چاہے چھوڑ دے اللہ کی قسم آج کے دن میں تجھ پر اس بارہ میں جو تو نے اللہ کی خاطر لیا میں تمہیں کوئی روک ٹوک نہیں کروں گا۔اس پر اس نے کہا کہ اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو۔(تم تینوں کی آزمائش کی گئی تھی اللہ تجھ سے راضی ہو گیا اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا۔5252{11} حَدَّثَنَا إِسْحَقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :5252 عامر بن سعد سے روایت ہے کہ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ حضرت سعد بن ابی وقاص اپنے اونٹوں میں تھے کہ قَالَ عَبَّاسٌ حَدَّثَنَا وقَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا ان کا بیٹا عمر اُن کے پاس آیا۔جب حضرت سعد نے