صحیح مسلم (جلد پانز دہم)

Page 142 of 279

صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 142

صحیح مسلم جلد پانزدهم 142 كتاب الفتن واشراط الساعة قَالَتْ فَنُودِيَ فِي النَّاسِ إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةً ایک روایت میں ہے کہتے ہیں کہ ہم قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فِيمَن انْطَلَقَ مِنَ النَّاسِ حضرت فاطمہ بنت قیس کے پاس گئے تو انہوں نے اس کھجور سے ہماری تواضع کی جسے رطب ابن طاب قَالَتْ فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ مِنَ النِّسَاء وَهُوَ يَلِي الْمُوَخَرَ مِنَ الرِّجَالِ کہا جاتا تھا اور ہمیں جو کے ستو پلائے۔پھر میں نے ان سے پوچھا کہ جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں قَالَتْ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وہ کہاں عدت گزارے؟ انہوں نے کہا کہ میرے وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَحْطُبُ فَقَالَ إِنَّ خاوند نے مجھے تین طلاقیں دیں تو نبی اللہ نے مجھے بَنِي عَمْ لِتَمِيمِ الدَّارِيِّ رَكبُوا فِي الْبَحْرِ اجازت دی کہ میں اپنے اہل میں عدت گزارلوں۔وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ قَالَتْ فَكَأَنَّمَا وہ کہتی ہیں کہ لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ نماز أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باجماعت ہونے کو ہے۔وہ کہتی ہیں کہ میں بھی لوگوں وَأَهْوَى بِمِحْصَرَتِهِ إِلَى الْأَرْضِ وَقَالَ هَذِهِ کے ساتھ چلی گئی۔وہ کہتی ہیں میں عورتوں کی سب طَيِّبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ (121) وحَدَّثَنَا سے پہلی صف میں تھی جو مردوں کی سب سے آخری الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ الْحُلْوَانِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ صف کے قریب تھی۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی ہے کو منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ غَيْلَانَ بْنَ جَرِيرٍ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ كر تمیم داری کے چیرے بھائی ایک بحری سفر پر گئے۔باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے اور اس يُحَدِّثُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ الله صَلَّى الله میں یہ اضافہ ہے کہ گویا میں نبی ﷺ کی طرف دیکھ رہی ہوں۔آپ نے اپنی چھڑی کو زمین کی طرف عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ فَأَخبَرَ رَسُولَ جھکایا اور فرمایا هَذِهِ طيبة یہ طیبہ ہے، آپ کی مراد الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَكِبَ مدینہ سے تھی۔الْبَحْرَ فَتَاهَتْ بِهِ سَفِينَتُهُ فَسَقَطَ بِهِ سَفِينَتُهُ فَسَقَطَ إِلَی ایک اور روایت میں ہے حضرت فاطمہ بنت قیس سے جَزِيرَةٍ فَخَرَجَ إِلَيْهَا يَلْتَمِسُ الْمَاءَ فَلَقِيَ روایت ہے کہ تمیم داری رسول اللہ ﷺ کی خدمت إِنْسَانَا يَجُرُّ شَعَرَهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَقَالَ میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ مے کو بتایا کہ وہ ایک فِيهِ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَدْ أَذِنَ لِي فِي بحری سفر پر روانہ ہوئے اور ان کی کشتی اصل راستہ