صحیح مسلم (جلد پانز دہم)

Page 136 of 279

صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 136

صحیح مسلم جلد پانزدهم سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 136 كتاب الفتن واشراط الساعة يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَمْ يَذْكُرْ ضُحًى [7385,7384,7383] [24]۔۔۔: بَاب : قِصَّةُ الْجَسَّاسَةِ :باب: جساسہ بہت جاسوسی کرنے والے) کا قصہ 5221{119) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ :5221 : عامر بن شراحیل شعبی شعب ہمدان الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَحَجَّاجُ بْنُ بیان کرتے ہیں انہوں نے ضحاک بن قیس کی بہن السَّاعِرِ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَد وَاللَّفْظُ فاطمہ بنت قیس سے پوچھا اور وہ ابتدائی ہجرت کرنے لِعَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي والیوں میں سے تھیں کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث عَنْ جَدِّي عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ ذَكَوَانَ حَدَّثَنَا بتائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو اور آپ اسے حضور کے علاوہ کسی کی طرف منسوب نہ ابْنُ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَرَاحِيلَ کریں تو انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو تو میں الشَّعْبِيُّ شَعْبُ هَمْدَانَ أَنَّهُ سَأَلَ فَاطِمَةَ بنتَ قَيْسٍ أَخْتَ الصَّحَاكِ بْنِ قَيْسٍ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأَوَل فَقَالَ حدثينِي حَدِيثًا سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسْندِيهِ إِلَى أَحَدٍ ضرور ایسا ہی کروں گی۔تو انہوں (عامر بن شراحیل ) نے ان سے کہا کہ ہاں مجھے بتائیں تو انہوں (حضرت فاطمہ بنت قیس) نے کہا کہ میں نے ابن مغیرہ سے نکاح کیا اور وہ اس وقت قریش کے بہترین نوجوانوں میں سے تھے وہ رسول اللہ ملے غَيْرِهِ فَقَالَتْ لَئِنْ شِئْتَ لَأَفْعَلَنَّ فَقَالَ لَهَا کی معیت میں پہلے جہاد میں ہی شہید ہو گئے اور أَجَلْ حَدِّثِينِي فَقَالَتْ نَكَحْتُ ابْنَ الْمُغِيرَةِ جب میں بیوہ ہوگئی تو مجھے عبد الرحمان بن عوف نے وَهُوَ مِنْ خِيَارِ شَبَابِ قُرَيْشٍ يَوْمَئِذٍ اور رسول اللہ ﷺ کے کئی صحابہ نے نکاح کا پیغام فَأَصِيبَ فِي أَوَّلِ الْجِهَادِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ بھیجا اور رسول اللہ اللہ نے بھی اپنے آزاد کردہ غلام 5221:تخریج: ترمذی كتاب الفتن باب ما جاء في النهي عن سبّب الرياح 2253 ابوداؤد كتاب الملاحم باب في خبر الجساسة 4325 ، 4326 ہ ان کا مقصد یہ تھا کہ حضرت فاطمہ بنت قیس نے یہ روایت براہ راست حضور ﷺ سے سنی ہو اور درمیان میں کسی اور راوی کا واسطہ نہ ہو۔