صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 124
صحیح مسلم جلد پانزدهم 124 كتاب الفتن واشراط الساعة صلى الله وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شَمَالًا يَا عِبَادَ کے باقی سارے دن تمہارے دنوں کی طرح ہوں الله فَاثْبُتُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْتُهُ في گے۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہے وہ دن جو الْأَرْضِ قَالَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ ایک سال کی طرح ہوگا کیا اس میں ایک دن کی كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامه نمازیں ہمارے لئے کافی ہوں گی۔آپ نے فرمایا كَأَيَّامِكُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ الله فَذَلَكَ الْيَوْمُ نہیں اس کے لئے اندازہ کر لینا۔ہم نے عرض کیا یا الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ قَالَ لَا رَسول اللہ !از مین میں اس کی تیز رفتاری کیسی ہوگی ؟ اقْدَرُوا لَهُ قُدْرَهُ قُلْنَا يَا رَسُولَ الله وَمَا آپ نے فرمایا بارش کی طرح جس کے پیچھے ہوا چل إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ كَالْغَيْثِ اسْتَدَبَرَتْهُ رہی ہو۔پھر وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں الرِّيحُ فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ پکارے گا تو وہ اس کی بات مان لیں گے۔اس پر وہ بادلوں کو حکم دے گا تو وہ خوب بارش برسا ئیں گے اور بهِ وَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ زمین کو حکم دے گا تو وہ اگائے گی اور شام کو ان کے وَالْأَرْضِ فَتَنْبِتُ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ مویشی آئیں گے تو ان کی کو ہانیں پہلے سے بہت أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًا وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا اونچی ہوں گی ، ان کے تھن بھرے ہوئے ہوں گے وَأَمَدَّهُ حَوَاصِرَثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ اور ان کی کوکھیں بھری ہوں گی۔پھر وہ ایک اور قوم کو فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ بلائے گا وہ اس کی بات کو رد کر دیں گے اور وہ ان کے فَيُصْحُونَ مُمْحلينَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ پاس سے چلا جائے گا تو وہ قحط میں مبتلا ہو جائیں گے مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْحَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا اور ان کے ہاتھوں میں ان کے مالوں میں سے کچھ نہ أخرجي كُنُوزَكَ فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيب رہے گا اور وہ (دجال) ویرانے سے گزرے گا تو النَّحْل ثُمَّ يَدْعُو رَجُلًا مُمْلَنَا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ اسے کہے گا کہ اپنے خزانے نکال تو اس (ویرانے) بالسَّيْفَ فَيَقْطَعُهُ جَوْلَتَيْنِ رَمِّيَّةَ الْغَرَضِ ثُمَّ کے خزانے اس طرح اس کے پیچھے چل پڑیں گے يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ جیسے شہد کی ترکھیاں۔پھر وہ ایک بھر پور جوان آدمی کو فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ بلائے گا اور اسے تلوار سے مارے گا اور اس کے دو مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ ٹکڑے کردے گانشانے پر مارنے کی طرح پھر اسے دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى پکارے گا تو وہ روشن چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آئے