صحیح مسلم (جلد پانز دہم)

Page 114 of 279

صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 114

صحیح مسلم جلد پانزدهم 114 كتاب الفتن واشراط الساعة قَوْلُ لَمْ يَقُلْهُ نَبِيِّ لِقَوْمِهِ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا، لیکن میں تمہیں اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ قَالَ ابْنُ اس بارہ میں ایک بات بتائے دیتا ہوں جو کسی نبی شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتِ الْأَنْصَارِيُّ نے اپنی قوم کو نہیں بتائی یہ جان لو کہ وہ ایک چشم ہے أَنَّهُ أَخبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُول الله صَلَّى اور اللہ تبارک و تعالیٰ یک چشم نہیں۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى الله ایک روایت میں ہے ابن شہاب کہتے ہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حَذَرَ النَّاسَ الدَّجَّالَ عمر بن ثابت انصاری نے مجھے بتایا کہ ان کو إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ مَنْ كَره رسول الله علیہ کے ایک صحابی نے بتایا کہ رسول اللہ الا اللہ صلى الله عَمَلَهُ أَوْ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَقَالَ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ نے ایک دن لوگوں کو دجال سے ہوشیار کرتے لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى ہوئے فرمایا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان يَمُوت (96) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِي کافر لکھا ہوا ہے۔جسے ہر وہ شخص جسے اس کا عمل وہ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْد قَالَ حَدَّثَنَا ناپسند ہے پڑھ لے گا یا ( فرمایا ) اسے ہر مومن پڑھ يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ حَدَّثَنَا لے گا اور فرمایا جان لو کہ تم میں سے کوئی اپنے رب أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عزوجل کو نہیں دیکھے گا یہانتک کہ وہ مر جائے۔سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ ایک اور روایت میں ابن شہاب سے مروی ہے کہ الطَّلَقَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سالم بن عبد اللہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر وَمَعَهُ رَهْطُ مِنْ أَصْحَابه فيهمْ عُمَرُ بْنُ نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے آپ الْخَطَّابِ حَتَّى وَجَدَ ابْنَ صَيَّادٍ غُلَامًا قَدْ کے ساتھ کچھ صحابہ تھے جن میں حضرت عمر بن خطاب نَاهَرَ الْحُلُمَ يَلْعَبُ مَعَ الْعِلْمَانِ عِنْدَ أَطْم بَنِي بھی تھے یہانتک کہ آپ نے ابن صیاد کو پایا جو ایسا مُعَاوِيَةَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بمثل حدیث نوجوان تھا جو بلوغت کی عمر کے قریب تھا اور وہ يُونُسَ إِلَى مُنْتَهَى حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ ثَابِتِ بنی معاویہ کے قلعہ کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا الْحَدِيث عَنْ يَعْقُوبَ قَالَ قَالَ أَبَى تھا۔باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔اور لو يَعْنِي فِي قَوْلِهِ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيْنَ قَالَ لَوْ تَرَكَتْهُ أُمُّهُ تَرَكَتُهُ بَيْنَ“ کے بارہ میں (راوی) کہتے ہیں کہ اس بَيَّنَ أَمْرَهُ {97} وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ سے مراد ہے کہ اگر اس کی ماں اس کو چھوڑ دیتی (یعنی وَفِي