صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 113
صحیح مسلم جلد پانزدهم 113 كتاب الفتن واشراط الساعة عُنُقَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کے قتل میں تمہارے وَسَلَّمَ إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ لئے کوئی خیر نہیں۔سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ وَقَالَ سَالِمُ بْنُ کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر کو کہتے ہوئے سنا عَبْد اللَّه سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ اس کے (کچھ عرصہ) کے بعد رسول اللہ ﷺ اور صلى الله صل الله انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ حضرت ابی بن کعب انصاری کھجوروں کے باغ کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَيُّ بْنُ كَعْب الْأَنْصَارِيُّ إِلَی طرف گئے جس میں ابن صیاد تھا یہانتک کہ جب النَّحْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّاد حَتَّى إِذَا دَخَلَ رسول الله علی کھجوروں کے اس باغ میں داخل رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ ہوئے تو آپ کھجوروں کے تنوں کی اوٹ میں ہونے طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّحْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ لگے اور دبے پاؤں گئے تا کہ ابن صیاد کی کوئی باتیں مِنَ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ میں قبل اس کے کہ ابن صیاد آپ کو دیکھ پائے تو صَيَّادِ فَرَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول الله علیہ نے اسے دیکھ لیا اور وہ کمبل لئے لیٹا وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعْ عَلَى فِرَاشِ فِي ہوا تھا جس کے اندر سے کچھ مہم سی آواز آرہی قَطِيفَة لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ فَرَأَتْكُمُ ابْن صَيَّادِ تھی۔ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیا رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جبکہ آپ کھجور کے درختوں کی اوٹ میں تھے۔اس يَتَّقي بجُذُوعِ النَّحْلِ فَقَالَتْ لابن صيَّادِ یا نے ابن صیاد سے کہا اے صاف ! یہ ابن صیاد کا صلى الله صَافِ وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ هَذَا مُحَمَّدٌ نام تھا یہ محمد (ع) ہیں۔یہ سنتے ہی ابن صیاد فَتَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ اچھل پڑا۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيْنَ قَالَ سَالِمٌ قَالَ اسے چھوڑ دیتی تو حقیقت حال واضح ہو جاتی۔عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَامَ رَسُولُ الله صَلَّى الله سالم کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى الله بما رسول الله ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنِّي تعالیٰ کی ثناء بیان کی جس کا وہ اہل ہے۔پھر دجال کا لَأَنْذِرُكُمُوهُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَلدَرَهُ قَوْمَهُ ذکر کرتے ہوئے فرمایا میں تمہیں اس سے ڈراتا لَقَدْ أَنْدَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَكِنْ أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ ہوں ، ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے خبردار کیا ہے، نوح صلى الله