صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 112
صحیح مسلم جلد پانزدهم 112 كتاب الفتن واشراط الساعة شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ گئے یہاں تک کہ آپ نے اسے بنی مغالہ کے ایک عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنْ عُمَرَ بْنَ قلعہ کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا۔الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُول الله صَلَّى الله ابن صیادان دنوں بلوغت کے قریب تھا اس وقت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْط قبلَ ابْنِ صَيَّادِ حَتَّى اسے پتہ نہ چلا یہانتک کہ رسول اللہ علیہ نے اس کی وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الصَّبْيَانِ عِنْدَ أَطْمِ بَنِي پیٹھ پراپنا ہاتھ مارا پھر رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّاد يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ سے فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بَيَدِهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَيَّادِ رسول ہیں۔اس پر ابن صیاد نے رسول اللہ ﷺ سے أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ فَقَالَ ابْنُ ہوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے نظر انداز فرمایا۔صَيَّادٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور فرمایا میں اللہ اور اس کے (سب) رسولوں پر أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ ایمان لاتا ہوں۔پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ آمَنْتُ بِاللهِ تم کیا دیکھتے ہو؟ تو ابن صیاد نے کہا کہ میرے پاس وَبِرُسُله ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ سچی اور جھوٹی (دونوں طرح کی ) خبریں آتی ہیں تو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تَرَى قَالَ ابْنُ صَيَّادِ يَأْتيني رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا معاملہ تجھ پر مشتبہ ہو گیا صَادِق وَكَاذِبٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّی ہے۔پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا میں نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلَّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ ثُمَّ قَالَ تجھ سے کچھ چھپایا ہے تو ابن صیاد نے کہا وہ رُخ ہے تو لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي رسول الله علی نے اسے فرمایا دور ہو، تیری قدر قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِينًا فَقَالَ ابْنُ صَيَّادِ هُوَ نہیں بڑھے گی۔اس پر حضرت عمر بن خطاب نے الدُّخُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں وَسَلَّمَ احْسَأَ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ فَقَالَ عُمَرُ اس کی گردن اڑا دوں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بْنُ الْخَطَّابِ ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللهِ أَضْرِبْ اگر تو یہ وہی ہے تو تمہیں اس پر غلبہ نہ دیا جائے گا اور