صحیح مسلم (جلد پانز دہم)

Page 109 of 279

صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 109

صحیح مسلم جلد پانزدهم 109 كتاب الفتن واشراط الساعة هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ قَالَ وَقِيلَ لَهُ أَيَسُرُّكَ جائے۔وہ کہتے ہیں پھر اس نے انہیں کہا سنو! اللہ کی أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ قَالَ فَقَالَ لَوْ عُرِضَ عَلَيَّ قسم مجھے علم ہے کہ اب وہ ( دجال ) کہاں ہے اور میں مَا كَرِهْتُ [7349] اس کے باپ اور اس کی ماں کو جانتا ہوں۔وہ کہتے ہیں اس سے کہا گیا کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ تم ہی وہ شخص ہو؟ وہ کہتے ہیں اس پر اس نے کہا اگر میرے سامنے پیش کیا جائے تو میں نا پسند نہ کروں۔5197(91) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :5197 حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ : حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ ہم حج یا کہا عمرہ کے لئے نکلے اور ہمارے ساتھ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيد الْخُدْرِيِّ قَالَ ابن صائد بھی تھا۔وہ کہتے ہیں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا وَمَعَنَا ابْنُ صَائِد کیا۔لوگ ادھر ادھر بکھر گئے صرف میں اور وہ باقی رہ قَالَ فَتَزَلْنَا مَنْزِلًا فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَبَقیتُ أَنَا گئے اور میں اس سے بہت زیادہ ڈرا اس وجہ سے جو وَهُوَ فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا اس کے بارہ میں کہا جاتا تھا۔وہ کہتے ہیں وہ اپنا يُقَالُ عَلَيْهِ قَالَ وَجَاءَ بِمَتَاعه فَوَضَعَهُ مَعَ سامان لایا اور میرے سامان کے ساتھ رکھ دیا۔میں مَتَاعِي فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ فَلَوْ وَضَعْتَهُ نے کہا گرمی بہت ہے۔کیوں نہ تم اسے اس درخت تَحْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةِ قَالَ فَفَعَلَ قَالَ کے نیچے رکھ دو۔وہ کہتے ہیں اس نے ایسا ہی کیا۔پھر فَرُفِعَتْ لَنَا غَدَمٌ فَانْطَلَقَ فَجَاءَ بِعُسٌ فَقَالَ ہمیں کچھ بکریاں دکھائی دیں۔وہ گیا اور وہ ( دودھ کا ) اشْرَبْ أَبَا سَعِيدِ فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ بڑا پیالہ لایا اور کہا اے ابوسعید ! پیو تو میں نے کہا وَاللَّبَنُ حَارٌّ مَا بِي إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ گرمی بہت زیادہ ہے اور دودھ بہت گرم ہے۔عَنْ يَدِهِ أَوْ قَالَ أَخَذَ عَنْ يَدِهِ فَقَالَ أَبَا وجد صرف یہ تھی کہ میں اس کے ہاتھ سے پینے یا کہا اس سَعيد لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخَذَ حَبْلًا فَأَعَلَّقَهُ کے ہاتھ سے لینے کو نا پسند کرتا تھا اس پر اس نے بِشَجَرَةٍ ثُمَّ أَخْتَنِقَ مِمَّا يَقُولُ لِي النَّاسُ يَا أَبَا کہا ابوسعید میں چاہتا ہوں کہ ایک رسی لوں اسے ایک سَعِيدٍ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِیثُ رَسُولِ اللهِ درخت سے لٹکا دوں پھر ان باتوں کی وجہ سے جولوگ 5197 : اطراف مسلم كتاب الفتن واشراط الساعة باب ذكر ابن صياد 5195 ، 5196 تخریج : ترمذى كتاب الفتن باب ما جاء في ذكر ابن صائد 2246