صحیح مسلم (جلد چہار دہم)

Page 192 of 280

صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 192

صحیح مسلم جلد چهاردهم 192 کتاب صفات المنافقين واحكامهم 4971 {11} حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ حَدَّثَنَا :4971 حضرت ابوطفیل بیان کرتے ہیں کہ اہل عقبہ أَبُو أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعِ میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہ کے درمیان کوئی حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ قَالَ كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ معاملہ تھا جیسا کہ لوگوں کے درمیان ہو جایا کرتا ہے۔الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ اس نے کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ( بتائیں ) فَقَالَ أَنْشُدُكَ بِالله كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ کہ عقبہ والے کتنے تھے ؟ راوی کہتے ہیں لوگوں نے قَالَ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَكَ قَالَ كُنَّا ان سے کہا جب اس نے آپ سے پوچھا ہے تو آپ تُخبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ فَقَدْ اسے بتائیں۔تو وہ کہنے لگے ہمیں بتایا جاتا تھا کہ وہ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ وَأَشْهَدُ بِاللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ چودہ تھے اور اگر تم بھی ان میں سے ہو تو پھر وہ پندرہ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُوله فِي الْحَيَاةِ ہوئے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان میں الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ وَعَذَرَ ثَلَاثَةً قَالُوا مَا سے بارہ تو اس دنیوی زندگی میں اور جس دن گواہ سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اُٹھیں گے اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے لئے وَسَلَّمَ وَلَا عَلِمْنَا بِمَا أَرَادَ الْقَوْمُ وَقَدْ كَانَ فِي مجسم جنگ ہیں اور ان تین کو معذور قرار دیا جنہوں حَرَّةٍ فَمَشَى فَقَالَ إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي نے کہا تھا ہم نے رسول اللہ ﷺ کے منادی کی إِلَيْهِ أَحَدٌ فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ فَلَعَنَهُمْ آواز نہیں سنی اور نہ ہی ہمیں علم تھا کہ ان لوگوں کا کیا يَوْمَئِذ [7037] ارادہ ہے۔( یہ اس وقت کی بات ہے) جب وہ حرہ میں تھے وہ چلے اور کہا پانی تھوڑا ہے۔کوئی مجھے سے پہلے نہ جائے۔انہوں نے کچھ لوگوں کو پایا، وہ اُن سے پہلے چلے گئے تھے۔ان کو بُرا بھلا کہا۔4971 : اطراف : مسلم کتاب صفات المنافقين و احكامهم 4969 ، 4970 ی عقبہ والے:۔یہاں عقبہ والے سے مراد بیعت عقبہ والے اصحاب نہیں ہیں بلکہ تبوک کے راستہ پر عقبہ ایک مقام کا نام ہے۔جہاں منافق رسول اللہ علی سے بد عہدی پر اکٹھے ہوئے تھے۔( شرح امام نووی)