صحیح مسلم (جلد چہار دہم)

Page 181 of 280

صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 181

صحیح مسلم جلد چهاردهم 181 كتاب التوبة وَسَلَّمَ بَيْتِي فَسَأَلَ جَارِيَتِي فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا جب بھی وہ میرے گھر میں آیا تو میرے موجودگی میں عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقُدُ آیا۔جب بھی میں سفر پر گیا تو وہ میرے ساتھ گیا۔حَتَّى تَدْخُلَ الشَّاةُ فَتَأْكُلَ عَجِينَهَا أَوْ قَالَتْ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ بھی ہے کہ پھر رسول اللہ یہ میرے گھر میں تشریف خَمِيرَهَا شَكٍّ هِشَامٌ فَانْتَهَرَهَا بَعْضُ لائے اور میری خادمہ سے استفسار فرمایا تو اس نے کہا أَصْحَابِهِ فَقَالَ اصْدُقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى خدا کی قسم سوائے اس کے میں ان میں کوئی عیب نہیں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ دیکھتی کہ وہ سو جاتی ہیں حتی کہ بکری آکر آنا کھا جاتی فَقَالَتْ سُبْحَانَ الله وَالله مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا ہے انہوں نے عجین کی بجائے خمیر کا لفظ إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِعُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَب استعمال کیا۔اس بارہ میں ہشام کو شک ہے۔حضور کے بعض صحابہ میں سے کسی نے اس پر اسے ڈانٹا اور کہا الْأَحْمَرِ وَقَدْ بَلَغَ الْأَمْرُ ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي کہ رسول اللہ ﷺ کوصحیح صحیح بتاؤ اور انہوں نے اسے قِيلَ لَهُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ معاملہ کھول کر بتایا۔تب اس نے کہا خدا کی قسم میں عَنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَقُتِلَ انہیں ایسا جانتی ہوں جیسے سنار خالص سونے کی سرخ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِيهِ أَيْضًا مِنَ الزَّيَادَةِ ڈلی کو جانتا ہے اور جب اس شخص تک یہ خبر پہنچی جس وَكَانَ الَّذِينَ تَكَلَّمُوا بِهِ مِسْطَحْ وَحَمْنَةُ کے ساتھ یہ تہمت لگائی گئی تھی تو اس نے کہا سبحان اللہ ! وَحَسَّانُ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبَيٍّ فَهُوَ اللہ کی قسم میں نے کبھی کسی عورت کا پردہ نہیں کھولا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں پھر انہیں راہ خدا میں شہید کیا گیا۔اس روایت میں یہ مزید ہے کہ وہ لوگ تَوَلَّى كَبْرَهُ وَحَمْنَةُ 17022,7021,70201 جنہوں نے تہمت لگائی تھی ان میں مسطح ، حمنہ اور الَّذِي كَانَ يَسْتَوْشِيهِ وَيَجْمَعُهُ وَهُوَ الَّذِي حسان تھے اور جہاں تک اُس منافق عبد اللہ بن ابی ( بن سلول ) کا تعلق ہے وہ ان ( افواہوں ) کو اکٹھا کرتا اور آگے پھیلاتا اور وہی اس کے بڑے حصہ کا ذمہ دار تھا اور ایک حمنہ۔