صحیح مسلم (جلد چہار دہم)

Page 180 of 280

صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 180

صحیح مسلم جلد چهاردهم 180 كتاب التوبة وَزَادَ أَيْضًا قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَالله باپ اور میری عزت تمہارے مقابل محمد کی عزت کے إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ مَا قِيلَ لَيَقُولُ لئے بطور ڈھال کے ہے اس روایت میں مزید ہے سُبْحَانَ الله فَوَالَّذِي نَفْسي بَيَدِهِ مَا عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ خدا كَشَفْتُ عَنْ كَتَفِ أَلَكَى قَطُّ قَالَتْ ثُمَّ قُتِلَ کی قسم جس مرد کے ساتھ یہ تہمت لگائی گئی ہے وہ ( صفوان ) کہتا تھا کہ سبحان اللہ! اس ذات کی قسم جس وَفِي کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے کبھی کسی عورت کا بَعْدَ ذَلكَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ الله۔حديث يَعْقُوبَ بْن إِبْرَاهِيمَ مُوعِرِينَ فِي پردہ نہیں کھولا۔آپ (حضرت عائشہ) فرماتی ہیں پھر نَحْرِ الظهيرَةِ وقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مُوغِرِينَ اس کے بعد وہ اللہ کی راہ میں شہید کیا گیا۔قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ مَا اور ایک روایت میں (مُوغِرِینَ کی بجائے) قَوْلُهُ مُوغِرِينَ قَالَ الْوَغْرَةُ شِدَّةُ الْحَرِّ (58) مُوعِرِینَ کے الفاظ ہیں۔حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ (راوی) عبد بن حمید کہتے ہیں میں نے عبدالرزاق الْعَلَاءِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ سے پوچھا کہ مُوغِرِینَ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ذُكِرَ نے کہا الْوَغْرَةُ“ سے مراد گرمی کی شدت ہے۔مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ قَامَ ایک روایت میں ہے حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطيبًا کہ جب میرے بارہ میں ایسا ذکر کیا گیا اور مجھے اس فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ بارہ میں کچھ علم نہ تھا تو رسول اللہ علیہ خطاب کرنے أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي أُناس کے لئے کھڑے ہوئے اور تشہد کے بعد اللہ کی وہ أَبَنُوا أَهْلِي وَايْمُ اللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي حمد و ثناء بیان کی جس کا وہ اہل ہے پھر اس کے بعد مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَأَبْنُوهُمْ بِمَنْ وَاللَّهِ مَا فرمایا کہ ان لوگوں کے بارہ میں مشورہ دو جنہوں نے عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَطُّ وَلَا دَخَلَ بَيْتِي میرے اہل کے بارہ میں تہمت لگائی ہے۔خدا کی قسم قَطُّ إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ وَلَا غَبْتُ فِي سَفَرٍ إِلَّا میں نے اپنے اہل میں کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی اور غَابَ مَعِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بقصَّته وَفِيهِ جس شخص کے ساتھ انہوں نے تہمت لگائی ہے خدا کی وَلَقَدْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ تم میں نے اس میں بھی کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی