صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 179
صحیح مسلم جلد چهاردهم 179 كتاب التوبة أَوْ مَا رَأَيْتِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ أَحْمِي ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے۔چنانچہ انہوں نے مسطح کہ سَمْعِي وَبَصَرِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا پروه ( خرچ کرنا ) دوبارہ شروع کر دیا جو وہ پہلے قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي اس پر خرچ کیا کرتے تھے اور کہا کہ میں یہ (مدد) مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس سے کبھی نہیں روکوں گا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ وَطَفِقَتْ أَخْتُهَا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے متعلق اپنی زوجہ حَمْنَةً بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ حضرت زینب بنت جحش سے بھی پوچھا تھا کہ تمہیں کیا علم ہے یا تمہاری کیا رائے ہے؟ تو انہوں نے کہا فيمَنْ هَلَكَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَهَذَا مَا انْتَهَى مِنْ أَمْرِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ و قَالَ فِي رکھتی ہوں۔اللہ کی قسم میں نے تو ان میں نیکی ہی حَدِيثِ يُونُسَ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ (57) وحَدَّثَنِي دیکھی ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں اور نبی ﷺ کی أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا فَلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ازواج میں سے صرف وہی تھیں جو میرا مقابلہ کیا کرتی ح و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيُّ الْحُلْوَانِيُّ تھیں مگر اللہ نے بوجہ ان کی پرہیز گاری کے انہیں بچا وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ لیا۔مگر ان کی بہن حمنہ بنت جحش ان کی طرف داری میں جھگڑتی تھی اور ہلاک ہوگئی اُن لوگوں کے ساتھ جو إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِ حَدِيث یا رسول اللہ ! میں تو اپنے کانوں اور آنکھوں کو محفوظ الله ہلاک ہوئے۔زہری کہتے ہیں یہاں تک روایت ہمیں راویوں کے اس گروہ کے ذریعہ لی ہے۔يُونُسَ وَمَعْمَرٍ بِإِسْنَادِهِمَا وَفِي حَدِيث ایک روایت میں ( اجْتَهَلَتُهُ الْحَمِيَّةُ کی بجائ) اجْتَهَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ كَمَا قَالَ مَعْمَرٌ وَفِي احْتَمَلَتِ الْحَمِيَّةُ کے الفاظ ہیں۔حَدِيثِ صَالِحٍ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ كَقَوْلِ ایک روایت میں مزید ہے کہ عروہ بیان کرتے ہیں يُونُسَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ قَالَ عُرْوَةُ حضرت عائشہ نا پسند کرتی تھیں کہ حضرت حسان کوان كَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا کے سامنے بُرا بھلا کہا جائے اور فرماتیں کہ (حسان) حَسَّانُ وَتَقُولُ فَإِنَّهُ قَالَ نے (اپنے شعر میں ) کہا کہ فَإِنْ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي یقیناً میرا باپ اور اس کا باپ اور میری عزت لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وَقَاءُ تمہارے مقابل محمد کی عزت کے لئے بطور ڈھال کے ہے