صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 171
صحیح مسلم جلد چهاردهم 171 كتاب التوبة وَأُمُّهَا ابْنَةُ صَحْرِ بْنِ عَامِرٍ حَالَةُ أَبِي بَكْرٍ قضائے حاجت کے لئے ہمارا طریق بھی پہلے عربوں الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بن عَبَّاد کا ساتھا اور ہمیں اپنے گھروں کے قریب بیوت الخلاء بْن الْمُطَّلب فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَبَنْتُ أَبِي رُهم قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنَنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ بنانے سے تکلیف ہوتی تھی۔پس میں اور ام مسطح جو ابورهم بن مطلب بن عبد مناف کی بیٹی تھیں اور ان کی والدہ جو فخر بن عامر کی بیٹی اور حضرت ابو بکر کی خالہ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ نَعِسَ مِسْطَحْ تھیں اور ان کا بیٹا مسطح بن اثاثہ بن عباد بن المطلب فَقُلْتُ لَهَا بِئْسَ مَا قُلْتِ أَتَسيِّينَ رَجُلًا قَدْ تھا۔میں اور ابورھم کی بیٹی اپنے گھر سے چلیں۔جب شَهِدَ بَدْرًا قَالَتْ أَيْ هَنْتَاهُ أَوْ لَمْ تَسْمَعِي مَا ہم فارغ ہوئے تو میں اور ابو ھم کی بیٹی اپنے گھر کی قَالَ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ قَالَتْ فَأَحْبَرَتْنِي بِقَوْل طرف چل پڑے۔ام مسطح اپنی چادر میں الجھ کر گر گئی۔اس پر انہوں نے کہا ہلاک ہو سطح۔اس پر میں نے ان أَهْلِ الْإِفْكِ فَازْدَدْتُ مَرَضًا إِلَى مَرَضِي سے کہا کہ بہت بُری بات ہے جو آپ نے کہی ہے۔فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ کیا آپ ایسے شخص کو برا بھلا کہتی ہیں جو بدر میں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ موجود تھا۔انہوں نے کہا اے بھولی ! تم نے سنا نہیں كَيْفَ تِيكُمْ قُلْتُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَيْ کہ اس نے کیا کہا ہے؟ میں نے کہا اس نے کیا کہا قَالَتْ وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَتَيَقَّنَ الْخَبَرَ من ہے؟ حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں تب انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں مجھے بتائیں۔اس پر قبْلِهِمَا فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ میری بیماری میں اور اضافہ ہو گیا۔پھر جب میں اپنے وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَبَوَيْ فَقُلْتُ لِأُمِّي يَا أُمَّتَاهُ مَا گھر واپس آئی اور رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف الله يَتَحَدَّثُ النَّاسُ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْكَ لائے اور سلام کہا اور فرمایا تمہارا کیا حال ہے؟ تو میں نے عرض کیا کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةٌ عِنْدَ اپنے والدین کے ہاں جاؤں۔حضرت عائشہ بیان رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا كَفَّرْنَ عَلَيْهَا فرماتی ہیں کہ میرا ارادہ تھا کہ اس خبر کے بارہ میں میں قَالَتْ قُلْتُ سُبْحَانَ اللهِ وَقَدْ تَحَدَّثَ ان سے تحقیق کروں گی۔رسول اللہ ﷺ نے مجھے