صحیح مسلم (جلد چہار دہم)

Page 170 of 280

صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 170

صحیح مسلم جلد چهاردهم 170 كتاب التوبة حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَ مَا نَزَلُوا مُوغِرِينَ فِي رَاجِعُونَ کے سوا ان کے منہ سے کوئی اور لفظ سنا۔نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ فِي شَأْني انہوں نے اپنا اونٹ بٹھایا اور اس کے اگلے پاؤں پر وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبَيْ پاؤں رکھ دیا میں اس پر سوار ہوگئی اوروہ اونٹنی کو اس کی مہار تھا مے آگے آگے چلنے لگے حتی کہ ہم لشکر میں ابْنُ سَلُولَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ حِينَ آپہنچے بعد اس کے کہ انہوں نے دوپہر کے آغاز میں قَدمْنَا الْمَدِينَةَ شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفيضُونَ فِي شدید گرمی کی وجہ سے پڑاؤ کیا تھا۔پھر میرے اس قَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ وَلَا أَشْعُرُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ معاملہ میں جس نے بھی ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہو گیا۔وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لَا أَعْرِفُ مِنْ اور وہ جو اس کا بڑا ذمہ دار تھا وہ عبداللہ بن ابی بن رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّطْفَ سلول تھا پھر ہم مدینہ آگئے اور جب ہم مدینہ آئے تو میں ایک ماہ بیمار رہی۔اور لوگ بہتان لگانے والوں الذي كُنتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي إِنَّمَا کے بارہ میں باتیں کرتے رہے لیکن مجھے اس بارہ يَدْخُلُ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں کچھ علم نہ تھا ہاں مجھے یہ چیز میری بیماری میں بے فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ كَيْفَ تِيكُمْ فَذَاكَ يَرِيبُنِي چین کرتی تھی کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے وَلَا أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ بَعْدَ مَا وہ مہربانی نہ دیکھتی تھی جو میں آپ کی طرف سے دیکھا کرتی تھی جب میں بیمار ہوتی تھی۔رسول اللہ علی نَقَهْتُ وَخَرَجَتْ مَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ میرے پاس تشریف لاتے تو سلام کرتے اور فرماتے الْمَنَاصِعِ وَهُوَ مُتَبَرَّزُنَا وَلَا تَخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا تمہارا کیا حال ہے؟ پس یہ بات تھی جو مجھے بے چین إِلَى لَيْلِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا کرتی تھی لیکن مجھے اس شر کا علم نہیں تھا یہانتک کہ مِنْ بُيُوتِنَا وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأَوَّل في میں بہت کمزوری کے بعد مناصع کی طرف گئی تو التَنؤُه وَكُنَّا نَتَأَذَّى بالْكُتُف أَنْ تَتَّخِذَهَا میرے ساتھ ام مسطح بھی نکلی یہ ( مناصع ) ہماری قضائے حاجت کی جگہ تھی جہاں ہم صرف رات کو ہی عِنْدَ بُيُوتِنَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ جاتے تھے اور یہ اس سے پہلے کی بات ہے جب ہم بِنْتُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ نے اپنے گھروں کے قریب بیوت الخلاء بنائے۔