صحیح مسلم (جلد چہار دہم)

Page 165 of 280

صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 165

صحیح مسلم جلد چهاردهم 165 كتاب التوبة صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (55) وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ جزا کے طور پر جو وہ کسب کرتے تھے۔وہ تمہارے بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہو مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ جاؤ۔پس اگر تم ان سے راضی ہو جاؤ تو اللہ بدکردار لوگوں سے ہر گز راضی نہیں ہوتا۔حضرت کعب " کہتے أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْن ہیں کہ ہم تین اُن لوگوں کے بارہ میں پیچھے رکھے گئے كَعْب بن مالك عَنْ عَمِّهِ عُبَيْد اللَّه بن تھے جن کا ( عذر ) رسول اللہ علیہ نے قبول فرما لیا كَعْبٍ وَكَانَ فَائِدَ كَعْبِ حِينَ أُصِيبَ تھا۔جب انہوں نے آپ کے سامنے حلف اٹھایا بَصَرُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ قَوْمِهِ وَأَوْعَاهُمْ تھا۔پس آپ نے ان سے بیعت لی اور اُن کے لئے لأَحَادِيث أَصْحَاب رَسُول الله صَلَّى اللهُ مغفرت کی دعا کی اور رسول اللہ ﷺ نے ہمارے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ معاملہ کو اس وقت تک مؤخر فر ما دیا جب تک کہ اس (اللہ عز وجل ) نے اس بارہ میں کوئی فیصلہ نہ فرمایا۔اس ضمن میں اللہ عزوجل نے فرمایا اور ان تینوں پر بھی اللہ توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا ) جو پیچھے چھوڑ دیئے مَالك وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ يُحَدِّثُ أَنَّهُ لَمْ يَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَرَاهَا قَطُّ کئے تھے۔2 در اصل اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ غَيْرَ غَزْوَتَيْنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ سے ہمارے پیچھے رہنے کا ذکر نہیں کیا بلکہ ہمارے وَغَرَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ معاملہ کا التواء اور اسے پیچھے ڈالنے کا ذکر ان لوگوں بِنَاسٍ كَثِيرٍ يَزِيدُونَ عَلَى عَشْرَةِ آلَافٍ وَلَا کے مقابلہ میں ہے جنہوں نے آپ کے سامنے قسمیں کھا ئیں اور آپ کی خدمت میں عذر پیش کئے يَجْمَعُهُمْ دِيوَانُ حَافِظ [7019,7018,7017,7016] اور حضور نے ان سے عذر قبول فرمالئے۔ایک روایت میں ( أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ كَان قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيْهِ حِيْنَ عَمِيَ کی بجائے) عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ وَكَانَ قَائِدَ 1: التوبة : 95 تا 96 - 2: التوبة: 118