صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 162
صحیح مسلم جلد چهاردهم 162 كتاب التوبة الله وَإلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قبولیت تمہیں مبارک ہو یہانتک کہ میں مسجد میں فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ علیہ مسجد میں أَمْسِكُ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ تشریف فرما ہیں اور آپ کے گرد اور لوگ بھی ہیں۔حضرت طلحہ بن عبید اللہ اُٹھے اور دوڑتے ہوئے آئے، فَقُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔اللہ کی قسم قَالَ وَقُلْتُ يَا رَسُولَ الله إِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا مہاجرین میں سے کوئی شخص ان کے علاوہ نہ اُٹھا۔أَنْجَانِي بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا حضرت کعب حضرت طلحہ کے اس نیک سلوک کو کبھی نہ أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا مَا بَقِيتُ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا بھولتے تھے۔راوی کہتے ہیں وہ (حضرت کعب کہتے عَلِمْتُ أَنَّ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَبْدَاهُ اللَّهُ ہیں ) جب میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں صدق الحديث مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلكَ سلام عرض کیا ( کعب کہتے ہیں ) تو خوشی سے آپ کا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى چہرہ چمک رہا تھا۔آپ فرما رہے تھے کہ خوش ہو جاؤ يَوْمِي هَذَا أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلَانِي اللهُ به والله اس بہترین دن پر جو تم پر چڑھا، جب سے تمہاری ماں نے جنا ہے۔وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا و مَا تَعَمَّدْتُ كَذِبَةً مُنْذُ قُلْتُ ذَلكَ لَرَسُول یا رسول اللہ! کیا یہ آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا طرف سے؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اللہ کی طرف وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي اللَّهُ فِيمَا بَقِيَ قَالَ سے۔حضور جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ روشن فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى ہوتا گویا آپ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا ہے۔وہ کہتے ہیں ہمیں النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ اس کا پتہ چل جاتا تھا۔وہ کہتے ہیں جب میں آپ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ کے سامنے بیٹھ گیا تو عرض کیا یا رسول اللہ! یقیناً میری قُلُوبُ فَرِيقِ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ تو بہ کا یہ حصہ ہے کہ میں اپنے مال سے دستبردار ہو رَءُوفٌ رَحِيمٌ وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خَلَّفُوا جاؤں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خدمت میں حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحْبَتْ بطور صدقہ پیش کرتے ہوئے۔اس پر رسول اللہ نے وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ حَتَّى بَلَغَ يَا أَيُّهَا نے فرمایا کہ اپنے مال کا کچھ حصہ اپنے پاس رکھو یہ