صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 161
صحیح مسلم جلد چهاردهم 161 كتاب التوبة ثَوْبَيْن فَلَبَسْتُهُمَا فَانْطَلَقْتُ أَتَأَمَّمُ رَسُولَ حال میں بیٹھا تھا جس کا ذکر اللہ عز وجل نے ہمارے اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَلَقَّانِي النَّاسُ بارہ میں فرمایا ہے کہ میرا دل بھی تنگ ہو رہا تھا اور فَوْجًا فَوْجًا يُهَتِّتُونِي بِالتَّوْبَةِ وَيَقُولُونَ زمین بھی باوجود اپنی فراخی کے مجھ پر تنگ تھی تو میں نے زور سے پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع “ لتَهْتُكَ تَوْبَةُ اللَّه عَلَيْكَ حَتَّى دَخَلْتُ 66 پہاڑ پر چڑھ کر انتہائی بلند آواز سے کہہ رہا تھا اے الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کعب بن مالک! تجھے بشارت ہو۔وہ کہتے ہیں میں وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحَوْلَهُ النَّاسُ نے یہ آواز سنی تو فور اسجدہ میں گر گیا اور میں جان گیا صلى الله فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ يُهَرُولُ حَتَّی کہ کشائش آگئی ہے۔وہ کہتے ہیں رسول اللہ علے صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي وَاللهِ مَا قَامَ رَجُلٌ مِنَ نے جب فجر کی نماز ادا فرمائی تو لوگوں کو اطلاع دی اور الْمُهَاجِرِينَ غَيْرُهُ قَالَ فَكَانَ كَعْبُ لَا اللہ کا ہم پر رجوع برحمت ہونے کا بتایا۔لوگ ہمیں يَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ قَالَ كَعْبٌ فَلَمَّا سَلَّمْتُ خوشخبری دینے کے لئے دوڑے۔کچھ خوشخبری دینے والے میرے دو ساتھیوں کی طرف گئے۔ایک آدمی عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ گھوڑا دوڑاتے ہوئے میری طرف آیا لیکن قبیلہ اسلم کا وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ وَيَقُولُ ایک اور شخص میری طرف دوڑتا ہوا آیا اور پہاڑ پر چڑھ أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ گیا اور آواز گھوڑے سے زیادہ تیز رفتار تھی۔جب وہ أَمَّكَ قَالَ فَقُلْتُ أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ میرے پاس آیا جس کی خوشخبری کی آواز میں نے سنی أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَا بَلْ مِنْ عِنْدِ اللهِ تھی تو اس کے بشارت دینے کی وجہ سے میں نے اپنے وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کپڑے اتار کر اسے پہنا دیئے اور خدا کی قسم اس دن إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ كَأَنَّ وَجْهَهُ قِطْعَةٌ میرے پاس وہی کپڑے تھے اور میں نے دو کپڑے کسی سے عاریہ لئے اور پہنے اور پھر رسول اللہ ملے قَالَ وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلكَ قَالَ فَلَمَّا صلى الله کی خدمت میں حاضر ہونے ) کے ارادہ سے چل جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِڑا۔لوگ گروہ در گروہ مجھے ملتے اور توبہ کی قبولیت پر مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى مبارک باد دیتے، کہتے کہ اللہ کی طرف سے تو بہ کی