صحیح مسلم (جلد چہار دہم)

Page 158 of 280

صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 158

صحیح مسلم جلد چهاردهم 158 كتاب التوبة جَفْوَةِ الْمُسْلِمِينَ مَشَيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ باہر نکلتا اور نماز میں شامل ہوتا اور بازاروں میں گھومتا جدَارَ حَائط أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا قَتَادَةَ أَنشدك بالله هَلْ تَعْلَمَنَّ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ مگر کوئی مجھ سے بات نہ کرتا۔نماز کے بعد جب رسول اللہ علیہ اپنی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو میں آپ کے پاس آکر سلام عرض کرتا اور دل میں کہتا پتہ نہیں رسول اللہ ﷺ نے سلام کے جواب میں اپنے ہونٹ ہلائے ہیں یا نہیں؟ پھر میں آپ کے وَرَسُولَهُ قَالَ فَسَكَتَ فَعُدْتُ فَنَاشَدُتُهُ قریب ہی نماز پڑھنے لگتا اور مخفی نظر سے آپ کو فَسَكَتَ فَعُدْتُ فَنَاشَدَتُهُ فَقَالَ اللهُ دیکھتا۔جب میں اپنی نماز کی طرف متوجہ ہوتا آپ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَفَاضَتْ عَيْنَايَ وَتَوَلَّيْتُ میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ کی طرف متوجہ حَتَّى تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي فِي ہوتا تو آپ مجھ سے رخ پھیر لیتے اور جب مسلمانوں کی بے رخی کا عرصہ مجھ پر لمبا ہو گیا تو میں چلا یہانتک ق الْمَدِينَةِ إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ نَبَط أَهْلِ الشَّامِ کہ اپنے چازاد بھائی ابوقتادہ جولوگوں میں مجھے سب مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ يَبِيعُهُ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ مَنْ شوق سے زیادہ محبوب تھا کے باغ کی دیوار پھلانگی اور اسے يَدُلُّ عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكِ قَالَ فَطَفِقَ النَّاسُ سلام کہا مگر خدا کی قسم اس نے مجھے سلام کا جواب نہیں يُشيرُونَ لَهُ إِلَيَّ حَتَّى جَاءَنِي فَدَفَعَ إِلَيَّ ديا۔تب میں نے اسے کہا اے ابوقتادہ! میں تمہیں خدا كِتَابًا مِنْ مَلِكَ غَسَّانَ وَكُنْتُ كَاتِبًا فَقَرَأَتُهُ کی قسم دیتا ہوں کیا تمہیں پتہ نہیں کہ میں اللہ اور اس فَإِذَا فِيهِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا أَنَّ صَاحِبَكَ کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ وہ قَدْ جَفَاكَ وَلَمْ يَجْعَلْكَ اللَّهُ بِدَارِ هَوَان وَلَا خاموش رہا۔میں نے پھر ایسا کہا اور اسے قسم دی مگر وہ خاموش رہا۔میں نے پھر یہی کہا پھر میں نے قسم دی تو مَصْيَعَة فَالْحَقِّ بِنَا تُوَاسِكَ قَالَ فَقُلْتُ حِينَ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔قَرَأْتُهَا وَهَذِهِ أَيْضًا مِنَ الْبَلَاءِ فَتَيَا مَمْتُ بِهَا اس پر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔چنانچہ التَّنُّورَ فَسَجَرْتُهَا بِهَا حَتَّى إِذَا مَضَتْ میں پیچھے مڑا اور دیوار پھلانگ کر واپس آ گیا۔اس أَرْبَعُونَ مِنَ الْخَمْسِينَ وَاسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ اثناء میں کہ میں مدینہ کے بازار میں جارہا تھا کہ علاقہ