صحیح مسلم (جلد چہار دہم)

Page 157 of 280

صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 157

صحیح مسلم جلد چهاردهم 157 كتاب التوبة لَهُمَا مِثْلَ مَا قِيلَ لَكَ قَالَ قُلْتُ مَنْ هُمَا کافی تھا۔وہ کہتے ہیں خدا کی قسم وہ مجھے ملامت کرتے قَالُوا مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعَةَ الْعَامِرِيُّ وَهِلَالُ بْنُ رہے یہانتک کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں رسول اللہ ہے أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ قَالَ فَذَكَرُوا لِي رَجُلَيْنِ کے پاس لوٹ جاؤں اور اپنے آپ کو جھٹلاؤں۔وہ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا فِيهِمَا أُسْوَةٌ قَالَ کہتے ہیں پھر میں نے ان سے پوچھا کہ میرے ساتھ فَمَضَيْتُ حِينَ ذَكَرُوهُمَا لِي قَالَ وَنَهَى کوئی اور بھی اس صورت حال) سے دوچار ہوا ہے؟ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے کہا ہاں دو آدمی تمہارے ساتھ اس سے دو چار ہوئے ہیں۔اور ان دونوں نے بھی وہی کہا ہے الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ مِنْ بَيْنِ جو تم نے کہا اور انہیں بھی وہی جواب دیا گیا ہے جو مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ قَالَ فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ وَقَالَ تمہیں دیا گیا۔وہ کہتے ہیں میں نے کہا وہ دونوں تَغَيَّرُوا لَنَا حَتَّى تَنَكَّرَتْ لِي فِي نَفْسِيَ کون ہیں؟ انہوں نے کہا مرارہ بن ربیعہ عامری اور الْأَرْضُ فَمَا هِيَ بِالْأَرْضِ الَّتِي أَعْرِفُ فَلَبِشا بلال بن امیہ واقعی۔وہ کہتے ہیں انہوں نے مجھ سے عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةٌ فَأَمَّا صَاحِبَايَ ان دو نیک شخصوں کا ذکر کیا جو بدر میں شامل ہوئے فَاسْتَكَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا يَبْكِيَانِ وَأَمَّا تھے۔ان میں میرے لئے نمونہ تھا۔وہ کہتے ہیں کہ أَنَا فَكُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ فَكُنْتُ جب انہوں نے ان دو اشخاص کا مجھ سے ذکر کیا تو میں أَخْرُجُ فَأَشْهَدُ الصَّلَاةَ وَأَطُوفُ في چلا گیا اور پیچھے رہنے والوں میں سے ہم تینوں الْأَسْوَاقِ وَلَا يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ وَآتِي رَسُولَ کے ساتھ کلام کرنے سے مسلمانوں کو منع فرما اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسَلَّمُ عَلَيْهِ دیا۔اس پر لوگ ہم سے اجتناب کرنے لگے۔وہ کہتے ہیں کہ لوگ ہمارے لئے بدل گئے یہاں تک کہ زمین وَهُوَ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَأَقُولُ فِي بھی میرے لئے اوپری ہوگئی جسے میں نہیں پہچانتا نَفْسِي هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدَّ السَّلَامِ أَمْ لَا ثُمَّ تھا۔پچاس راتیں ہم پرای کیفیت میں گذریں۔أَصَلِّي قَرِيبًا مِنْهُ وَأُسَارِقُهُ النَّظَرَ فَإِذَا أَقْبَلْتُ جہانتک میرے دونوں ساتھیوں کا تعلق ہے وہ عَلَى صَلَاتِي نَظَرَ إِلَيَّ وَإِذَا الْتَفَتُ نَحْوَهُ نڈھال ہوگئے اور اپنے گھروں میں بیٹھے روتے أَعْرَضَ عَنِّي حَتَّى إِذَا طَالَ ذَلِكَ عَلَيَّ مِنْ رہتے۔میں ان میں سے جوان اور مضبوط تھا۔میں