صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 155
صحیح مسلم جلد چهاردهم 155 كتاب التوبة فَطَفَقْتُ أَتَذَكَّرُ الْكَذِبَ وَأَقُولُ بمَ تشریف لا رہے ہیں تو مجھے پریشانی پیدا ہوئی اور میں أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا وَأَسْتَعِينُ عَلَى ذَلكَ چھوٹے بہانے سوچنے لگا کہ کل کس طرح آپ کی ناراضگی سے بچ سکتا ہوں اور میں نے اس بارہ میں كُلَّ ذِي رَأْي مِنْ أَهْلِي فَلَمَّا قِيلَ لِي إِنَّ اپنے گھر کے تمام سمجھدار لوگوں سے مشورہ بھی کیا۔رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَظَلَّ جب مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ (مدینہ پہنچنے قادمًا زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنِّي لَنْ والے ہیں تو مجھ سے سب جھوٹ جاتا رہا اور میں سمجھ أَنْجُوَ مِنْهُ بِشَيْءٍ أَبَدًا فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ گیا کہ آپ کی ناراضگی سے میں کسی طرح بچ نہیں وَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سکتا۔میں نے آپ سے سچ بولنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔قَادِمًا ۚ وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَا صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔آپ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ كا طريق تھا کہ جب آپ سفر سے واپس تشریف کا ذَلكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ لاتے تو پہلے مسجد سے شروع کرتے اور اس میں للنَّاسِ فَلَمَّا فَعَلَ دو رکعت ادا کرتے۔پھر لوگوں کی خاطر تشریف فَطَفَقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَكَانُوا رکھتے۔جب آپ نے ایسا کیا تو پیچھے رہنے والے بِضْعَةٌ وَثَمَانِينَ رَجُلًا فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ لوگ آپ کے پاس آکر عذر پیش کرنے لگے اور الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَانِيَتَهُمْ قسمیں کھانے لگے۔یہ سب اتنی 80 سے کچھ اوپر وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ تھے۔رسول اللہ علیہ نے جو انہوں نے ظاہر کیا اس کو إلى الله حَتَّى جِئْتُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ تَبَسَّمَ قبول فرمایا۔ان سے بیعت لی اور ان کے لئے الْمُعْضَبُ ثُمَّ قَالَ تَعَالَ فَجِئْتُ مغفرت کی دعا کی اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کر دیا پھر میں حاضر ہوا۔جب میں نے سلام عرض کیا أَمْشي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لِي مَا تو آپ نے یوں تبسم فرمایا جیسے ناراض شخص کا تبسم ہوتا خَلْفَكَ أَلَمْ تَكُنْ قَدِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ قَالَ ہے۔پھر آپ نے فرمایا آؤ۔میں چل کر آیا یہانتک قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ کہ میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو آپ نے مجھ سے عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنِّي فرمایا تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ کیا تم نے اپنی