صحیح مسلم (جلد چہار دہم)

Page 154 of 280

صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 154

صحیح مسلم جلد چهاردهم 154 كتاب التوبة كَهُمْ فَيَا لَيْتَنِي فَعَلْتُ ثُمَّ لَمْ يُقَدَّرْ ذَلكَ ہوتا مگر میرے لئے یہ مقدر نہ تھا۔رسول اللہ علی لِي فَطَفِقْتُ إِذَا خَرَجْتُ في النَّاسِ بَعْدَ کے جانے کے بعد جب بھی میں باہر لوگوں میں جاتا خُرُوجِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تو مجھے یہ بات غمگین کرتی کہ میں کوئی آدمی نہ يَحْزُنُنِي أَنِّي لَا أَرَى لِي أُسْوَةً إِلَّا رَجُلًا دیکھتا جس میں اپنا نمونہ پاتا۔صرف ایسا آدمی دیکھتایا تو وہ شخص جن پہ منافقت کا الزام تھا یا کمز ور لوگوں مَعْمُوصًا عَلَيْهِ فِي النِّفَاقِ أَوْ رَجُلًا مِمَّنْ میں سے کوئی شخص جنہیں اللہ نے معذور ٹھہرایا تھا۔عَذَرَ اللَّهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ وَلَمْ يَذْكُرْنِي رَسُولُ بہر حال رسول اللہ ﷺ نے میرا ذکرنہ فرمایا یہانتک اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ تَبُوكَ کہ آپ تبوک ( مقام پر پہنچ گئے۔تبوک میں فَقَالَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بِتَبُوكَ مَا فَعَلَ جب آپ لوگوں میں تشریف فرما تھے آپ نے فرمایا كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يَا کعب کو کیا ہوا؟ تب بنی سلمہ کے ایک شخص نے کہا رَسُولَ اللَّهِ حَبَسَهُ بُرْدَاهُ وَالنَّظَرُ فِي عطَّفَيْهِ يا رسول اللہ ! اس کو اس کی امارت اور اس کی خود پسندی فَقَالَ لَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلِ بِئْسَ مَا قُلْتَ وَاللَّهِ يَا نے روک لیا ہے۔اس پر حضرت معاذ بن جبل رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا فَسَكَتَ نے اس سے کہا کہ تم نے بہت بُرا کہا۔اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! ہم تو اس میں خیر کے سوا کچھ نہیں رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَمَا جانتے۔اس پر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔اسی هُوَ عَلَى ذَلِكَ رَأَى رَجُلًا مُبَيِّضًا يَزُولُ بِهِ اثناء میں آپ نے سفید کپڑوں میں ملبوس ایک شخص کو السَّرَابُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ دور سے آتے ہوئے دیکھا جس سے سراب ہٹ رہا تھا۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”ابو خیثمہ ہو وَسَلَّمَ كُنْ أَبَا خَيْثَمَةَ فَإِذَا هُوَ أَبُو خَيْثَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ الَّذِي تَصَدَّقَ بِصَاعِ التَّمْرِ جا۔تو وہ ابو خیثمہ انصاری ہی تھے۔یہ وہ ہیں حينَ لَمَرَهُ الْمُنَافِقُونَ فَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكِ جنہوں نے کھجور کا ایک صاع صدقہ دیا تھا اور فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ منافقوں نے ہنسی اڑائی تھی۔کعب کہتے ہیں کہ جب وَسَلَّمَ قَدْ تَوَجَّهَ قَافِلًا مِنْ تَبُوكَ حَضَرَنِي مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ اللہ تبوک سے واپس له لفظی ترجمہ عربی محاورہ کا یہ ہے کہ اس کی دو چادریں اور اس کا اپنے دونوں پہلوؤں کو دیکھنا “