صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 144
صحیح مسلم جلد چهاردهم 144 كتاب التوبة الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فرمایا (نہیں) بلکہ سب لوگوں کے لئے ہے۔سَمَاكِ بْنِ حَرْبِ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ ایک روایت میں ( فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا نَبِيَ اللَّهِ عَنْ حَالِهِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى هَذَا لَهُ خَاصَّةٌ قَالَ بَلْ لِلنَّاسِ كَافَةً کی بجاۓ) اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيث أَبِي الْأَحْوَصِ فَقَالَ مُعَادُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَالِهَذَا خَاصَّةٌ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ مُعَاذَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَوْلَنَا عَامَةً قَالَ بَلْ لَكُمْ عَامَةً کے الفاظ ہیں کہ لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ لَنَا عَامَّةً قَالَ بَلْ لَكُمْ حضرت معاذ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بات ) اس شخص کے لئے مخصوص ہے؟ یا ہم سب کے لئے عام عَامَّةً [7005,7004] ہے؟ آپ نے فرمایا بلکہ تم سب کے لئے عام ہے۔4951 {44} حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٌّ :4951 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا بَي حَدَّثَنَا نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ یا رسول اللہ ! میں حد کا مستحق ہو گیا ہوں۔آپ اسے أَنَسِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ مجھ پر قائم فرمائیے۔راوی کہتے ہیں اور نماز کا وقت وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ ہو گیا۔پھر اس شخص ) نے رسول اللہ ﷺ کے عَلَيَّ قَالَ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ ساتھ نماز پڑھی۔جب اس نے نماز ادا کر لی تو اس اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں ” حد“ کو پہنچا ہوں۔قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ فِيَّ آپ مجھ پر اللہ کا قانون نافذ فرمائیں۔آپ نے فرمایا كِتَابَ اللَّهِ قَالَ هَلْ حَضَرْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا قَالَ کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ اس نے عرض نَعَمْ قَالَ قَدْ غُفِرَ لَكَ 170061 کیا جی ہاں۔آپ نے فرمایا تجھے بخش دیا گیا ہے۔4952{45} حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلي 4952 حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ الْجَهْضَمِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرِ رسول الله علی مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم بھی قَالَا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَادٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ قَالَ بَيْنَمَا نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں ” حد“ کو پہنچا ہوں۔4951 : تخريج : بخارى كتاب الحدود باب اذا أقر بالحد ولم يتبين۔۔۔۔6823 4952 تخريج ابوداؤ د كتاب الحدود باب فى الرجل يعترف بحد۔۔۔۔4381