صحیح مسلم (جلد چہار دہم)

Page 126 of 280

صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 126

صحیح مسلم جلد چهاردهم 126 كتاب التربة مَا تَقُولُ قَالَ قُلْتُ تَكون عِنْدَ رُسُول الله ہیں یہانتک کہ گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ آجاتے ہیں لیکن جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس حَتَّى كَأَنَا رَأَيُّ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ سے نکلتے ہیں اور بیوی بچوں اور جائیدادوں میں رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَافَسْنَا مشغول ہوتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔اس الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالصَّيْعَاتِ فَنَسِينَا كَثِيرًا پر حضرت ابو بکڑ نے کہا کہ اللہ کی قسم ! ہم پر بھی یہی قَالَ أَبُو بَكْرِ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَتَلْقَى مِثْلَ هَذَا گزرتی ہے۔وہ کہتے ہیں پھر میں اور حضرت ابو بکر فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى چل پڑے یہانتک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ نَافَقَ میں حاضر ہوئے۔میں نے عرض کیا یا رسول الله ! حَنْظَلَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى حلہ منافق ہو گیا ہے۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكُونُ عندَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَانَا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالصَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا پاس سے جاتے ہیں اور بیوی بچوں اور جائیدادوں تَكُونُونَ عِنْدِي وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمْ میں پڑ جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔اس الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشكُمْ وَفِي طُرْقَكُمْ وَلَكِنْ يَا پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ [6966] میں میری جان ہے اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس میں تم میرے پاس ہوتے ہو اور ذکر میں ہوتے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو آپ ہمیں دوزخ اور جنت یاد کرا دیتے ہیں یہانتک کہ گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں لیکن جب ہم آپ کے ہو تو ضرور فرشتے تمہارے بچھونوں پر اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کرتے لیکن اے حنظلہ ! یہ وقت وقت کی بات ہے۔یہ آپ نے تین دفعہ فرمایا۔