صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 77
صحیح مسلم جلد سیزدهم 77 کتاب فضائل الصحابة فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلِ وَأَطِيطِ وَدَائِس فخر کرنے لگی۔اُس نے مجھے چند بکریوں والوں کے وَمُنَقٌ فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أَقَبَّحُ وَأَرْقُدُ پاس پایا جو سخت زندگی گزار رہے تھے اور مجھے گھوڑوں فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَبَّحُ أُمَّ أَبِي زَرْعٍ فَمَا اور اونٹوں گائیوں بیلوں اور مختلف پالتو پرندوں والا بنا دیا میں اس کے سامنے بات کرتی ہوں تو مجھے برا أمَّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ نہیں کہا جاتا۔میں سوتی ہوں تو صبح کر دیتی ہوں اور ابْنُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجَعُهُ پیتی ہوں تو سیر ہو جاتی ہوں کہ مزید پینے سے جی كَمَسَلْ شَطْبَةٍ وَيُشبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ التاتا ہے۔ابوزرع کی ماں! کیا ہی خوب ہے بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوْعُ ابوزرع کی ماں۔اس کے غلہ کے تھیلے بڑے بڑئے اور بھاری ہیں اور اس کا گھر کشادہ ہے ابوزرع کا بیٹا ! أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمِّهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ کیا ہی اچھا ہے ابوزرع کا بیٹا ! اس کا بستر سونتی ہوئی جَارَتِهَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا جَارِيَةُ أَبِي تلوار کی مانند ہے اور بکری کے بچے کی ایک دستی بھی زَرْعٍ لَا تَبُثُ حَدِيثَنَا تَبْدِيفًا وَلَا تُنَقَّتْ مِيرَتَنَا اسے سیر کر دیتی ہے۔ابوزرع کی بیٹی ! اور ابوزرع کی تَنْقِيثًا وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعشيشاً قَالَتْ خَرَجَ بیٹی کیا ہی خوب ہے۔اپنے باپ کی فرمانبردار اور اپنی أَبُو زَرْعِ وَالْأَوْطَابُ تُمْحَضُ فَلَقِيَ امْرَأَةً ماں کی فرمانبردار۔ایسی موٹی تازی کہ اپنی چادر کو بھر دے جو ہمسائی کے لئے باعث رشک ہے۔ابوزرع کی مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ خادمہ ! ابوزرع کی خادمہ بھی کیا خوب ہے۔نہ ہماری تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَ نَكَحَها باتوں کی تشہیر کرتی ہے اور نہ ہمارا کھانا چراتی ہے اور فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا رَكبَ شَريًّا ہمارا گھر گندا نہیں ہونے دیتی۔اُس نے کہا ایک دن وَأَخَذَ حَطَّيًّا وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمّا قَرِيًّا ابوزرع ( گھر سے) نکلا جب کہ دودھ کے برتن وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا قَالَ كُلِي بوئے جارہے تھے۔وہ ایک عورت سے ملا جس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے جیسے دو چیتے۔وہ اس کے أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ أَهْلَكِ فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ پہلو کے نیچے دو اناروں سے کھیل رہے تھے۔تو اس شَيْءٍ أَعْطَانِي مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةٍ أَبِي زَرْعٍ نے مجھے طلاق دے دی اور اس کے ساتھ نکاح کر قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ لیا۔اس کے بعد میں نے بھی ایک شریف آدمی سے