صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 76
صحیح مسلم جلد سیزدهم 76 کتاب فضائل الصحابة قَالَتِ الْحَامِسَةُ زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ وَإِنْ چھٹی نے کہا میرا خاوند کھانے لگے تو سب کچھ سمیٹ خَرَجَ أَسِدَ وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ جائے اور اگر پینے لگے تو سب کچھ چڑھا جائے اور قَالَتِ السَّادِسَةُ زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ وَإِنْ جب لیٹتا ہے کپڑے میں لپٹ کر سوتا ہے اور وہ شَرِبَ اشْتَفَّ وَإِنْ اصْطَجَعَ الْتَفَّ وَلَا میرے ہم وغم کو جاننے کے لئے میری طرف ہاتھ يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثْ نہیں بڑھاتا۔ساتویں نے کہا میرا خاوند نامرد ہے یا ( کہا ) بھٹکا ہوا قَالَتِ السَّابِعَةُ زَوْجِي غَيَايَاءُ أَوْ عَيَايَاءُ ہے، احمق ہے۔ہر قسم کی مرض کا مارا ہوا ہے اور وہ تیرا طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءً شَجَّكِ أَوْ فَلْكِ أَوْ سر پھوڑے یا ہاتھ پاؤں تو ڑے یا دونوں کام تیرے جَمَعَ كُلَّا لَك ساتھ کرے۔قَالَتِ النَّامِنَةُ زَوْجِي الرِّيحُ رِيحُ زَرْتب آٹھویں نے کہا میرے خاوند کی خوشبو زعفران کی خوشبواور اسے چھوڑ تو خرگوش کی طرح (نرم)۔قَالَتِ التَّاسِعَةُ زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ نویں نے کہا میرا خاوند بلند عمارت والا سردار ہے اور وَالْمَسُ مَسُّ أَرْكب قد آور بہادر ہے اور بہت مہمان نواز ہے۔مجلس مشورہ النَّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ کے قریب ہی اس کا گھر ہے۔النادي دسویں نے کہا میرا خاوند مالک ہے اور مالک کے کیا قَالَتِ الْعَاشِرَةُ زَوْجِي مَالِكَ وَمَا مَالِكُ کہنے ! مالک اس سے کہیں بہتر ہے۔اس کے بہت ! مالكَ خَيْرٌ مِنْ ذَلكَ لَهُ إِبل كَثيرات سے اونٹ ہیں جو زیادہ باڑوں میں رہتے ہیں، الْمَبَارِكِ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ إِذَا سَمِعْنَ چراگاہوں میں کم ملتے ہیں۔جب وہ باجے کی آواز صَوْتَ الْمَزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ سنتے ہیں تو یقین کر لیتے ہیں کہ اب وہ ذبح ہونے والے ہیں۔قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ فَمَا گیارہویں نے کہا میرا خاوند ابوزرع ہے اور کیا بات أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيِّ أُذُنَيَّ وَمَلَا مِنْ ہے ابوزرع کی۔اُس نے زیورات سے میرے کان شَحْمٍ عَضُدَيَّ وَبَجَّحَنِي فَبَجَحَتْ إِلَيَّ جھکا دیے اور چربی سے میرے باز وموٹے کر دیئے نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقِّ اُس نے مجھے خوش رکھا تو میں خوش ہو کر اپنے آپ پر