صحیح مسلم (جلد سیز دہم)

Page 67 of 376

صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 67

صحیح مسلم جلد سیزدهم تُحبينَ مَا أُحِبُّ فَقَالَتْ بَلَى قَالَ فَأَحِبِّي هَذه قَالَتْ فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 67 کتاب فضائل الصحابة أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَة أَبي رسول الله علیہ نے فرمایا پھر اس (عائشہ) سے قُحَافَةَ وَأَنَا سَاكِتَةٌ قَالَتْ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ محبت کرو۔وہ (حضرت عائشہ) فرماتی ہیں جب اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ بُنَيَّةُ أَلَسْتَ حضرت فاطمہ نے رسول اللہ علیہ سے یہ سنا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئیں، نبی ﷺ کی ازواج کے پاس واپس گئیں اور انہیں وہ بتایا جو انہوں نے رسول اللہ علی سے عرض کیا تھا اور جو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا۔اس پر انہوں نے حضرت فاطمہ سے فَرَجَعَتْ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہا ہمارا نہیں خیال کہ تم ہمارے کچھ کام آئی ہو، اس وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي قَالَتْ وَبِالَّذِي لئے دوبارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے عرض کرو کہ آپ کی ازواج ابو قحافہ کی بیٹی کے فَقُلْنَ لَهَا مَا تُرَاكِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ بارہ میں آپ سے انصاف مانگتی ہیں۔اس پر فَارْجِعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت فاطمہ نے کہا کہ خدا کی قسم اس بارہ میں اب وَسَلَّمَ فَقُولِي لَهُ إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَنشَدَتكَ میں آپ سے کبھی بات نہ کروں گی۔حضرت عائشہ ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ فَقَالَتْ فَاطِمَةٌ فرماتی ہیں پھر نبی ﷺ کی ازواج نے نبی ﷺ کی الْعَدْلَ فِي وَالله لَا أَكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا قَالَتْ عَائِشَةُ زوجہ حضرت زینب بنت جحش کو بھیجا جو ازواج میں سے صرف اکیلی حضور کی نظر میں مقام کے لئے میرا فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ مقابلہ کیا کرتی تھیں۔میں نے زینب سے بڑھ کر کسی زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عورت کو دین کے لحاظ سے بہتر نہیں دیکھا۔وہ اللہ کا وَسَلَّمَ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي سب سے زیادہ تقویٰ رکھنے والی اور بات کرنے میں منْهُنَّ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى سب سے زیادہ کچی اور سب سے زیادہ صلہ رحمی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي کرنے والی اور سب سے زیادہ صدقہ کرنے والی الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ وَأَلْقَى لِلَّهِ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا اور اس کام میں جس کے ذریعہ آپ صدقہ کرتیں اور وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَعْظَمَ صَدَقَةً وَأَشَدَّ الله کا قرب حاصل کرتیں اپنی جان کو سب سے زیادہ ابْتِذَالًا لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقَ بِهِ بالکان کرنے والی تھیں۔البتہ ایک تیزی ان میں تھی