صحیح مسلم (جلد سیز دہم)

Page 68 of 376

صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 68

صحیح مسلم جلد سیزدهم 68 كتاب فضائل الصحابة وَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ کہ جلدی غصہ میں آجاتی تھیں لیکن اس سے بھی حِدَةٍ كَانَتْ فِيهَا تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ قَالَتْ جلدی رجوع کر لیتی تھیں۔آپ فرماتی ہیں کہ انہوں الله فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُول الله صلى الله ( حضرت زینب نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مانگی - رسول اللہ ﷺے اس وقت حضرت عائشہ کے وَسَلَّمَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مُرْطَهَا عَلَى الْحَالَةَ ساتھ چادر میں اسی حالت میں تھے جس میں الَّتِي دَخَلَتْ فَاطِمَةً عَلَيْهَا وَهُوَ بهَا فَأَذنَ حضرت فاطمہ کے آنے پر تھے۔رسول اللہ ﷺ نے لَهَا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہیں اجازت عطا فرمائی تو انہوں نے عرض کیا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ يا رسول اللہ ! آپ کی ازواج نے مجھے آپ کے پاس أَرْسَلْتَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبي بھیجا ہے۔وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے بارہ میں انصاف مانگتی ہیں۔آپ (حضرت عائشہ فرماتی قُحَافَةَ قَالَتْ ثُمَّ وَقَعَتْ بِي فَاسْتَطَالَتْ عَلَيَّ ہیں پھر زینب نے مجھے ملامت کی اور کرتی چلی وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گئیں۔میں رسول اللہ ﷺ کی طرف نظر لگائے وَسَلَّمَ وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ هَلْ يَأْذَنُ لِي فِيهَا۔ہوئے تھی اور آپ کی آنکھ کی طرف میری نظر تھی کہ قَالَتْ فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ کیا مجھے آپ (جواب دینے کی اجازت دیتے رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْرَهُ ہیں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ زینب ایسا کرتی أَنْ أَنْتَصرَ قَالَتْ فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا رہیں یہانتک کہ میں جان گئی کہ رسول اللہ علی حَتَّى الحَيْتُ عَلَيْهَا قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ میرے بدلہ لینے کو ناپسند نہیں فرمائیں گے۔وہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَبَسَّمَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي ( حضرت عائشہ ) فرماتی ہیں پھر میں نے ان کی بَكْرٍ و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ملامت کا جواب دینا شروع کیا اور انہیں نہیں چھوڑا قُهْزَادَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنِيهِ عَنْ جب تک کہ ان پر غالب نہ آگئی۔وہ فرماتی ہیں اس پر عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنِ رسول اللہ نے مسکرائے اور فرمایا یہ ابوبکر کی بیٹی ہے! الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ فِي الْمَعْنَى غَيْرَ ایک اور روایت میں ( حَتَّى انْحَيْتُ عَلَيْهَا کی أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنشَبْهَا أَنْ جاءَ أَنْ أَنْخَيْتُهَا غَلَبَةٌ کے الفاظ ہیں کہ میں أَشْحَنْتُهَا غَلَبَةً [6291,6290] نے اُن کو زیر کر لیا۔